وزیراعظم عمران خان سے ارکان پارلیمنٹ کے گلے شکوے، اندرونی کہانی

پارلیمانی پارٹی اجلاس: ارکان پارلیمنٹ کا وزیراعظم سے وفاقی وزرا کے پاس عوامی مسائل سننے کا وقت نہ ہونے کا شکوہ

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں ارکان پارلیمنٹ نے وزیر اعظم سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزرا کے پاس عوامی مسائل سننے کا وقت نہیں ہے۔

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم بجلی اور گیس کے مسائل حل کرنے کے لیے نئی توانائی پالیسی لا رہے ہیں جس کے بعد عوام کو درپیش بجلی اور گیس کے مسائل حل ہو جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن قومی مفاد کے قانون کی مخالفت اپنے لیڈر کی کرپشن بچانے کے لئے کر رہی ہے، آج کے اجلاس کی اہمیت کو سمجھیں، پاکستان کے لیے فیٹف بلز کو منظور کرانا ہے، تاہم تمام ارکان پارلیمنٹ، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپنی حاضری ہر صورت یقینی بنائیں۔

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کچھ ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے بجلی اور گیس کے نئے کنکشن نہ لگنے کا بھی شکوہ کیا گیا، جس پر وزیراعظم عمران خان نے ارکان پارلیمنٹ کو یقین دہانی کروائی کے عوامی مسائل ہرصورت ترجیح بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔

خبر رساں ادارے کے ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران ایم این اے نور عالم خان نے نیب کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم کوئی بات کرتے ہیں تو نیب کی جانب سے نوٹس بھیج دیا جاتا ہے۔نیب والوں سے پوچھیں تو وہ وزیراعظم کا نام لیتے ہیں۔

جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کیا عثمان بزدار کے پیچھے نیب کو میں نے لگوایا؟کیا میں نے نیب کو علیم خان اور دیگر کے خلاف کاروائی کیلئے کہا؟نورعالم خان! میں تمہارے پیچھے کیوں پڑوں گا؟

وزیراعظم عمران خان کا نیب کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کو نوٹس بھیجنے پر کہنا تھا کہ نیب حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے وہ ایک آزاد ادارہ ہے، جبکہ نیب کی جانب سے ہمارے وزراء اور وزرائے اعلی کو بھی نوٹس بھیجے گئے ہیں، جس کا جواب دینا ان پر لازم ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>