سرعام پھانسی اور نامرد کرنے کے مطالبے کو جاوید چوہدری نے پنجابی سوچ قراردیدیا

ہم اپنی پنجابی سوچ کے ذریعے ملک کو برباد کرنا چاہتےہیں۔ جاوید چوہدری

روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہونیوالے آج کے کالم میں جاوید چوہدری نے عوام کے سرعام پھانسی اور وزیراعظم عمران خان کی زیادتی کے مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی تجویز پر تبصرہ کیا ۔

جاوید چوہدری نے لکھا کہ ملک میں جب بھی جنسی زیادتی کا کوئی کیس سامنے آتا ہے‘ وہ خواہ پپو ہو‘ زینب کا ایشو ہو یا پھر موٹروے جیسا سانحہ ہو پورے ملک سے سرعام پھانسی کی آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں‘ ہم بڑے فخر سے ایران اور سعودی کی مثالیں بھی دیتے ہیں‘یہ آوازیں کہاں سے آتی ہیں؟ یہ بھی خالص پنجابی سوچ ہے‘ ہم پنجابی کاٹ دیں‘ لٹکا دیں اور جلا دیں کے قائل ہیں‘ ہم پنجابی صرف مجرم کو سزا نہیں دیتے ہم اس کے خاندان کو بھی سزا دیتے ہیں۔

جاوید چوہدری نے لکھا کہ سانحہ موٹروے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے فرمادیا کہ زیادتی کے مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کر دینا چاہیے

وزیراعظم عمران خان کی زیادتی کے مجرموں کو نامرد کرنے کی تجویز پر جاوید چوہدری نے سوال اٹھایا کہ آپ یہ کر دیں لیکن مجرم اگر شادی شدہ ہے تو یہ سزا اسے نہیں اس کی بیوی کو ملے گی، بیوی کا اس میں کیا قصور ہے اور مجرم شوہر اگر ’’سزا‘‘ کے بعد بیوی کو طلاق دے دیتا ہے تو اس کے بچوں کی پرورش کون کرے گا؟ کیا وہ کل کو ڈاکو نہیں بن جائیں گے؟

سرعام پھانسی پر جاوید چوہدری کا کہناتھا کہ ہم اگر مجرموں کو سرعام پھانسی دینا شروع کر دیتے ہیں تو اس سے مجرموں کو کیا نقصان ہو گا؟ آپ پھانسی کے مجرم کو جیل میں پھانسی پر لٹکائیں یا سرعام وہ تو مر جائے گا‘ اس کے لیے دونوں برابر ہوں گی لیکن یہ پھانسی جب عام آدمی دیکھے گا تو اس کے ذہن پر کیا اثر پڑے گا۔

جاوید چوہدری نے کہا کہ آج سے سو سال پہلے تک دنیا میں سرعام پھانسیاں ہوتی تھیں لیکن پھر انسان نے تاریخ سے سیکھا یہ وحشت اور بربریت ہے اور ریاست کو کبھی وحشی نہیں ہونا چاہیے اسلئے مجرموں کو جیلوں میں سزائے موت دی جانے لگی‘دنیا میں آج صرف سعودی عرب اور ایران دو ملک ہیں جہاں سرعام سر کاٹا یا پھانسی دی جاتی ہے ، اب یہ ملک بھی اس پر نظرثانی کررہے ہیں۔

جاوید چوہدری نے سرعام پھانسی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں اگر سرعام پھانسیوں سے جرم رک سکتے تو ایران اور سعودی عرب میں رک گئے ہوتے‘ وہاں یہ آج تک موجود ہیں جبکہ دنیا کے 20 کرائم فری ملکوں میں کسی کو لٹکایا جاتا ہے اور نہ ہی وہاں سر کاٹا جاتا ہے لیکن وہاں بیس بیس سال سے موٹروے جیسی کوئی واردات نہیں ہوئی‘ اسکی وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں نے سزا پر توجہ نہیں دی‘ جرائم کنٹرول پر فوکس کیا جبکہ ہم معاشرے کو 21 ویں صدی سے واپس 15ویں صدی میں لے جانا چاہتے ہیں

جاوید چوہدری نے سرعام پھانسی اور جنسی صلاحیت سے محروم کردینے کے عمل کو پنجابی سوچ قرار دیتے ہوئے کہا ہم اپنی پنجابی سوچ کے ذریعے ملک کو مزید برباد کرنا چاہتے ہیں۔

جاوید چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ آپ سانحہ موٹروے کے ذمے داروں کو بے شک سزائے موت دیں لیکن انہیں سرعام پھانسی دیکر پورے ملک کو بیمار نہ کریں ‘ انسان کو مرتے ہوئے دیکھنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے‘انسان جب یہ دیکھتا ہے تو یہ اس کے بعد بیلنس نہیں رہ سکتا لہٰذا اس بیمار معاشرے پر مہربانی فرمائیں‘ اسے مزید بیمار نہ کریں‘ لوگ پاگل ہو جائیں گے۔

  • سب حرامیوں کے للے کاٹ کے اِس بے غیرت چُدری کی ٹوئی میں گھسیڑ دیں۔۔ دونوں مسئلے حل۔۔

    مطلب اگر کوئی شادی شدہ آدمی قتل کرے تو اُس کو معاف کردو ورنہ سزا اُس کے بیوی بچوں کو ملے گی۔۔ کون کرے گا اُس بیوہ سے شادی اور کون اُن بچوں کو پالے گا۔۔

    واہ جوید چُدری۔۔ ایڈا توں افلاطون۔۔

  • یہ پرانے زمانے میں خوامخواہ کے مشہور ومعروف ۔نیم خواندہ صحافی۔دانشوڑ۔اور بدشکل ۔ کالے
    کرتوت اینکرز۔ پچھلے دوسال کے مسلسل صدمات سے تقریبا اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں اس لیے ان کا غصہ نہیں کرنا چاہتے

  • Javed Ch Sahib,
    Please red this Ayah of Quran (5:33)
    إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيم
    I hope you will not call Allah Subhan Wa Taala a Punjabi Too?


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >