کیا اے پی سی کے ذریعے آصف زرداری نے نواز شریف سے کوئی پرانا بدلہ لیا ہے؟

صحافی اور وی لاگر صدیق جان نے حقائق کا موازنہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اے پی سی کے ذریعے آصف زرداری اور پیپلزپارٹی نے نواز شریف سے کوئی بدلہ لیا ہے یا اس کی وجہ کچھ اور ہے۔

صدیق جان نے بتایا کہ بطور وزیراعظم گزشتہ دور اقتدار میں نوازشریف نے آصف زرداری کو فون کیا اور کہا کہ فوج بے قابو ہوتی جا رہی ہے اور ہمیں کچھ کرنے ضرورت ہے جس پر اگلے ہی روز آصف زرداری نے فوج پر چڑھائی کر دی۔

انہوں نے بتایا کہ اپنی اس دن کی تقریر کے دوران آصف زرداری نے کہا تھا کہ فوجی جرنیلوں کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے کیونکہ وہ کچھ سالوں کے لیے آتے ہیں مگر سیاسی لوگ ہمیشہ یہیں رہتے ہیں اور اسی طرح انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کسی جرنیل نے تنگ کرنے کی کوشش کی تو 1947سے لےکر آج تک جتنے بھی جرنیل گزرے ہیں ان کا سارا کچہ چٹھا کھول دیا جائے گا۔

صدیق جان کے مطابق اس تقریر سے اگلے روز نواز شریف اپنا پینترا بدل گئے حتیٰ کہ انہوں نے آصف زرداری کے ساتھ طے شدہ ملاقات بھی کینسل کر دی اور ان کے وزرا چودھری نثار اور خواجہ آصف نے ان کے خلاف بھرپور بیان بازی کی اور ان کے بیان کی مذمت کی جس کے بعد آصف زرداری کو کئی سال کی جلاوطنی کاٹنی پڑی۔

صدیق جان نے کہا کہ گزشتہ روز کی اپوزیشن کی اے پی سی کا بھی کچھ اسی طرح کا حال ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ آصف زرداری اور بلاول نے نواز شریف کو خوب گرجنے کا کہا تھا اور نواز شریف اپنی تقریر میں اداروں کے خلاف خوب گرجے مگر آصف زرداری اور خود بلاول اس کے برعکس نظر آئے۔

صدیق جان نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس اے پی سی کی تقریر کے ذریعے آصف زرداری نے نواز شریف سے اپنا پرانا حساب چکتا کر لیا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >