اسٹیبلشمنٹ مخالف اے پی سی سے قبل خفیہ اےپی سی ، کامران خان کی زبانی

کل اسٹیبلشمنٹ مخالف اے پی سی سے دو روز قبل ایک خفیہ اے پی سی ہوئی مقام تھا آئی ایس آئی کا Mess ۔۔اس اے پی سی کے میزبان جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید تھے۔

کامران خان کے مطابق اس اے پی سی میں ہر جماعت کے سینئر لیڈران موجود تھے، مہمانان میں شہباز شریف بلاول بھٹو تمام اپوزیشن جماعتیں حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسد محمود بھی۔

کامران خان کا کہنا تھا کہ اس اے پی سی کا موضوع تھا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کیلئے قومی سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر آئیں۔یہ اے پی سی وزیراعظم عمران خان کی معلومات پہ اور انکی خواہش پہ ہوئی تھی۔

کامران خان نے مزید کہا کہ فوجی لیڈرشپ نے اپوزیشن سے درخواست کی کہ خدارا آئندہ الیکشن کی تیاری کریں، الیکشن ریفارمز کریں تاکہ بہترین الیکشن ہو، آپ اپنے مسائل خود حل کریں، دوسری چیز یہ ہے کہ ہم قومی مسائل حل کرنے کی بجائے بیرکس میں بیٹھے رہیں اگر سیاسی لیڈرشپ قومی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھے یا اسکے قابل ہوجائے گا۔

کامران خان کے مطابق یہ بہت مزے کی میٹنگ تھی کہ اپنی توجہ الیکشن ریفارمز پہ مرکوز رکھیں، ڈھائی سال ہوگئے اس حکومت کو آئے ہوئے، آپ الیکشن ریفارمز نہیں کررہے، اپنے حالات کو بہتر بنائیے۔ انہوں نے آرمی چیف کی باتیں بڑے انہماک سے سنیں، ان کی باتوں سے اتفاق کیالیکن انہوں نے اپنی اے پی سی میں اسٹیبشلمنٹ اسٹیبلشمنٹ کی تکرار لگادی۔

  • .ہاہاہا.باجوہ صاحب ..یہ تو ووہی بات ہو گی آپ کسی بچھو سے کہیں پلیز اپنی دم سیدھی کریں اور ڈنگ مارنا چھوڑ دیں ….خبر ہے کہ باجوہ کے پیٹھ پھیرتے ہی انہیں اسے لگا جسے انکی کمر میں کئی سویاں چبھ گی ہوں
    پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک باریش بچھو نے کہا …اپنی عادت سے مجبور حضور
    اب اس میں کیا

  • نواز شریف اور اپوزیشن کے ہاتھوں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ذلت ہوتے دیکھ کر مُجھے دکھ تو ہوا، مگر ہمدردی بلکل نہیں ہوئی۔

    یہ وہی اسٹیبلشمنٹ ہے جنہوں نے یہ سانپ پالے۔
    انکے الیکشن مینج کر کے انکو اقتدار میں کئی دفع بٹھایا۔
    کرپشن کے واضح ثبوت ہونے کے باوجود انکو محفوظ راستہ فراہم کیا اور کہی بار فرار کروایا۔
    ۲۰۱۸ کے الیکشن میں بھی ان کی حمایت کر کے تحریک انصاف کے سادہ اکثریت کو اتنا کم کیا کہ اسکو اتحادیوں کی ضرورت پڑے۔
    اب جب یہی لوگ اس اسٹیبلشمنٹ کو آنکھیں دکھا رہی ہے تو یہ انکا اپنا کیا دھرا ہے،۔

    مُجھے یقین ہے کہ یہ اب بھی سبق نہیں سیکھیں گے اور ان زرداریوں، شریفوں کی اولادوں کو اس مُلک کے اوپر مُسلط کرنے میں تمام خدمات فراہم کرینگے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >