سیاستدانوں کی عسکری قیادت سے ملاقات کی اندرونی کہانی رؤف کلاسرا کی زبانی

سیاستدانوں کی عسکری قیادت سے ملاقات کی اندرونی کہانی ، رؤف کلاسرا کی زبانی۔۔۔ آرمی چیف نے سیاسی قیادت سے کیا ڈیمانڈز کیں؟ بلاول کو آرمی چیف نے کیا جواب دیا؟

اپنے تجزئیے میں رؤف کلاسرا نے کہا کہ انہوں نے چارٹرڈ آف ڈیموکریسی میں یہ عہد کیا تھا کہ ہم جرنیلوں سے خفیہ ملاقاتیں نہیں کریں گے لیکن پھر اسے بھول گئے اور جرنیلوں سے ملاقاتیں شروع کردیں۔

جس دن ایف اے ٹی ایف قانون کی منظوری ہوئی، انہیں اسی دن بلایا گیا تھا،انہیں آئی ایس آئی کے میس میں بلایا گیا کہ آئیں آپکو کھانا کھلاتے ہیں، اس میں یہ سب پہنچ گئے، پہنچنے والے کون ہیں؟ بلاول ، شہباز شریف، سراج الحق صاحب اور مولانا فضل الرحمان نے تو اپنے بیٹے کو بھیجا۔ شیری رحمان تھیں، سب سے بڑے جو اپنے والد کی معافیاں مانگتے تھے کھڑے ہوکر کہ میرے والد نے جرنیلوں کے ساتھ ملکر بہت زیادتیاں کی تھیں، وہ بھی موجود تھے۔

رؤف کلاسرا نے مزید کہا کہ اس میں شیخ رشید کو بھی بلایا گیا تھا، انہیں گواہی کے طور پر رکھا گیا تھا تاکہ یہ مکر نہ جائیں۔اگر یہ مکریں گے تو شیخ رشید ٹی وی اور پارلیمنٹ میں انکی کلاس لیتے رہیں گے

رؤف کلاسرا نے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ فوج کی 2 تین ڈیمانڈز ہیں، ایک ڈیمانڈ یہ تھی کہ اٹھارہویں ترمیم کو ریورس کیا جائے، اس میں این ایف سی کا مسئلہ آرہا ہے کہ صوبوں کو پیسے زیادہ مل رہے ہیں اور مرکز کے پاس کم ہیں۔ مرکز کا موقف ہے کہ ہمارے پاس پیسے بچتے ہیں سب آپ لے جاتے ہیں، جو قرضے ہیں وہ ہمیں ہی واپس کرنے پڑتے ہیں۔اختیارات کا بھی مسئلہ چل رہا ہے، اس پر بھی پکڑا ہوا ہے کہ انہیں ریورس کریں۔

آرمی کی دوسری ڈیمانڈ بتاتے ہوئے رؤف کلاسرا نے کہا کہ دوسرا فوج یہ چاہتی ہے کہ گلگت بلتستان میں سی پیک کی وجہ سے آئینی ترامیم لانا چاہتے ہیں تاکہ تنازعات ختم ہوں، اسے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنادیا جائے۔

رؤف کلاسرا کے مطابق بلاول نے اس میٹنگ میں کچھ ایشوز اٹھائے، انہوں نے عمران خان حکومت کا ایشو اٹھاتے ہوئے 1971 کا سقوط ڈھاکہ کا حوالہ دیدیا، اس پر جنرل باجوہ نے کہا کہ ہم نے آپ سے آپکے ڈیروں یا گھروں پر آکر ملاقات کی خواہش کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی ہم آپ سے ملنے آتے ہیں۔آپ سیاستدان ہی ہم سے خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں۔آپکے اپنے ایجنڈے ہیں، آپکے اپنے مسائل ہیں۔

اسکے بعد جنرل باجوہ نے شہبازشریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف نے آپکےو الد سے متعلق جو فرمایا تھا وہ ہم سے مشورہ کرکے تو نہیں فرمایا تھا، ہم نے انہیں نہیں کہا تھا کہ یہ کہو کہ پیٹ پھاڑ کر دولت نکالوں گا، لاڑکانہ، لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹوں گا۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ سب ملکر ملک کو آگے لیکر جائیں گے اور ہم تو چاہتے ہیں کہ ہم پیچھے بیٹھ کر آپکو سپورٹ دیں۔

کلاسرا کے مطابق جنرل باجوہ نے مولانا فضل الرحمان کے بیٹے کو کہا کہ آپ کیا مجھے میسیجز بھیجتے رہتے ہیں کہ ملنا ہے، میٹنگ کرنی ہیں، سیکرٹ ملاقاتیں بھی کرتے ہیں اور طعنے بھی دیتے ہیں۔

  • ذرا سوچئیے کہ کیا ہم عوام صرف نعرے مارنے کے لئے ہیں؟ کیا ہم اتنے بیوقوف ہیں؟کیا ہمیں خریدنا اتنا آسان ہے؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ دوبارہ یہ لوگ ہم پر مسلط ہو جائیں ؟


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >