مشرف طیارہ ہائی جیکنگ اورسی سی پی او لاہور عمرشیخ کا کردار

مختلف تنازعات کی زد میں رہنے والے سی سی پی او لاہور کون ہیں؟

لاہور تعینات ہونے والے سی سی پی او عمر شیخ مسلسل خبروں اور تنازعات کی زد میں ہیں۔ تعیناتی کے آغاز میں ہی ان کے سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر سے اختلافات سامنے آئے جس کے بعد آئی جی پنجاب کو تبدیل کردیاگیا، بعد ازاں موٹر وے زیادتی کیس میں متنازع بیان پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑاجس کے بعد انہیں اپنے بیان پر معافی مانگنی پڑی۔

سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی تعیناتی پر ن لیگ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ جس کے لئے انہوں نے سی سی پی او لاہور کو ہٹوانے کیلئے عدالت سے بھی رجوع کررکھا ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے صحافی ارشد شریف کے مطابق مطابق سی سی پی او لاہور جب لاہور میں تعینات ہوئے تو کیپٹن صفدر نے سی سی پی او لاہور کو دھمکیاں دیں کہ میں تمہیں دیکھ لوں گاجس کا سی سی پی او لاہور نے سخت ردعمل دیا ۔

انسپکٹر احمد رضا جعفری نے دعویٰ کیا کہ وہ بے قصور ہے لیکن نجی ٹی وی کے اینکر عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ انسپکٹر ایک ظالم شخص تھا جو پیسے لیکر جرائم کرواتا اور لوگوں کی زمینوں پر قبضے کرواتا تھا، سی سی پی او کا متنازعہ بیان اپنی جگہ لیکن اس انسپکٹر کے ساتھ انہوں نے جو کیا بالکل ٹھیک کیا۔

بی بی سی کے مطابق عمر شیخ سے متعلق اسکے پرانے قریبی دوست نے نوازشریف کے دوسرے دور حکومت میں عمر شیخ کی نوابشاہ میں تعیناتی کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا

عمر شیخ کے دوست کے مطابق یہ نواز شریف کا دوسرا دور حکومت تھا۔ اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف سری لنکا کا دورہ کرنے کے بعد پاکستان آئے تو انہیں کراچی ایئرپورٹ پر اترنے کی اجازت نہ مل سکی۔

نواز شریف حکومت نے پرویز مشرف کو برطرف کر کے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی ضیاالدین بٹ کو نیا آرمی چیف تعینات کر دیا لیکن یہ پلان ناکام ہو گیا۔

جب کراچی ایئرپورٹ کے کنٹرول ٹاور سے پرویز مشرف کے طیارے کو نواب شاہ کے ایئرپورٹ پر اترنے کے احکامات موصول ہوئے تو پولیس کی طرف سے جو نوازشریف کا استقبال کرنے کے لیے وہاں پہنچے وہ عمر شیخ ہی تھے جو اس وقت سندھ کے ضلع نواب شاہ پولیس کے سربراہ تھے۔

کہا جارہا ہے کہ یہ واقعہ عمر شیخ کے کیرئیر کیلئے نقصان دہ ثابت ہوا، جب تک شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب رہے تو انہوں نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو پنجاب میں کوئی عہدہ نہ دیا اور انہیں پنجاب سے باہر ہی رکھا۔

عمر شیخ کی تعلیمی قابلیت کی بات کی جائے تو انہوں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم بی اے کیا اور اس کے بعد سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا ، ان کی پولیس افسر بننے کی خواہش تھی لیکن پوری نہ ہوپائی۔عمر شیخ نے دوبارہ سی ایس ایس کی تیاری شروع کر لی۔ عمر شیخ اس بار نمایاں پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور پھر یوں انھوں نے 20 ویں کامن گروپ سے اپنے پولیس کریئر کا آغاز کیا۔

عمر شیخ پولیس میں اعلیٰ عہدوں پر رہے ہیں، عمر شیخ موٹروے پولیس اور نیکٹا میں بطور ڈائریکٹر جنرل انسداد دہشت گردی بھی تعینات رہے ہیں۔ امریکہ کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے سائبر کرائم اور ڈیجیٹل فرانزک میں کورسز بھی کر چکے ہیں۔

اس کے علاوہ لندن میں برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 سے ٹریننگ بھی حاصل کر چکے ہیں۔عمر شیخ واشنگٹن اور پھر گوانتاناموبے میں بھی تعینات رہے۔

سی سی پی او لاہور تعینات ہونے سے پہلے عمر شیخ ڈی آئی جی سپیشل پروٹیکشن یونٹ تعینات تھے، جس کے ذمہ سی پیک کے منصوبوں پر تعینات چینی باشندوں کی حفاظت کرنا تھی۔

آج کل ایک میڈیا گروپ پر عمر شیخ کے خلاف کمپین چل رہی ہے۔ یہ میڈیا گروپ ایک لاہور کی معروف بیکری کی چین کے مالک کا ہے جو خود بھی ایک پولیس افسر رہ چکا ہے۔ اس میڈیا گروپ پر آئی بی کی ایک مبینہ رپورٹ کا تذکرہ ہورہا ہے جس میں آئی بی کے مطابق عمر شیخ نہ صرف اخلاقی بلکہ مالی طور پر بھی کرپٹ ہیں تاہم عمر شیخ اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی بی سے منسوب اس رپورٹ کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔ عمر شیخ کے ایک دوست کے مطابق یہ رپورٹ اسلئے غیر تصدیق شدہ ہے کیونکہ ایسی رپورٹس آؤٹ نہیں کی جاتی ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق عمر شیخ کی بطور سی سی پی او لاہور تعیناتی کا مقصد لاہور اور اسکے گردونواح میں موجود قبضہ گروپوں اور ریکارڈیافتہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا ہے،ذرائع نے دعویٰ کیا کہ سی سی پی او لاہور نے تعینات ہوتے ہی قبضہ گروپوں پر ہاتھ ڈالا تو آئی جی شعیب دستگیر نے انہیں ہاتھ ہلکا رکھنے کا مشورہ دیا اور بعدازاں دونوں میں اختلافات شدید ہوگئے۔

ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے کہ سی سی پی او لاہور نے کئی کرپٹ پولیس افسران کو حوالات میں بند کردیا ہے ، کچھ دن پہلے عمر شیخ نے گجر پورہ میں ایک سال قبل نجی ٹارچر سیل بنانے پر معطل ہونے والے سابق ایس ایچ او رضا جعفری اور 4 اہلکاروں کو حوالات میں بند کر کے مقدمہ درج کروا دیا۔

حوالات جانے والوں میں انسپکٹر رضا جعفری سمیت چار اے ایس آئی عمران، ارشاد ، شہزاد اور عمران بھی شامل ہیں، اہلکاروں نے گزشتہ سال کرول جنگل میں نجی ٹارچر سیل میں شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا تھا جبکہ اہلکاروں کے تشدد سے امجد ذوالفقار نامی شہری کی ہلاکت ہوئی تھی۔

دوسری جانب انسپکٹر احمد رضا جعفری نے دعویٰ کیا کہ میں دو سال پہلے بطور ایس ایچ او گجرپورہ پرفارم کررہا تھا، اس دوران منشیات فروش پکڑے گئے تھے، جن کو پریس کے ذریعے ویڈیو بناکر وائرل کیا گیا، اس وجہ سے میرا ٹرانسفر ہوگیا۔ ان میں ایک لڑکا جو منشیات فروش تھا رہائی کے بعد وفات پاگیا جسے ڈاکٹر نے لکھا کہ یہ ہارٹ اٹیک سے مرا ہے۔اس پر کسی قسم کا تشدد نہیں ہوا۔ہمارے ساتھ سخت زیادتی کی ہے، ہمیں گندی گالیاں دی گئی ہیں اور ہمیں چھتر مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔

گرفتار ہونیوالے انسپکٹر احمد رضا جعفری نے دھمکی دی کہ اگر میرے ساتھ انصاف نہ کیا تو میں بچوں سمیت سی سی پی او آفس کے سامنے خودکشی کر لوں گا

  • Iss syed zaday ki shakel dekho zara . Shukel se he sooar ka bacha lagta hay harami ki shakel per laanet peri hui hay aur kehta hay main syed zada hoon . Tu syed zada nahi haram zada hay . Syed zaday tuo kabhi bhi hudkushi nahi kertay . Wo tuo sooli chur jatay hain.
    Ja apnay aap ko aur apni gandi nasel ko aag laga lay . Koi issay machis aur petrol duo .

  • Ccpo Lahore sabaka dig spu nay apny warless opeter namely Rana Mohammed mubsher Iqbal belat nmbr wo/04 ko ghlat aur najaiz Zaria say NOC day kr Lahore Police mean asi ki promotion diwai Jo k high court mean rit krnay ki waja say next candidate ny ki rit to ruki hoi hy his ki next date rit nmbri 11131/2020 hy Justice shakil ur rehman sab k pass hy


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >