شہبازشریف سمیت ن لیگی رہنما کیوں نوازشریف کی تقریر کے حق میں نہیں تھے؟

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی سمیت ن لیگ کی اہم قیادت نواز شریف کے اے پی سی سے ویڈیو لنک خطاب کے حق میں نہیں تھی۔

نجی چینل کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس سے قبل اسلام آباد میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائش گاہ پر پارٹی قیادت کا اجلاس ہوا جس میں ایاز صادق، احسن اقبال اور دیگر رہنما شریک تھے ، ن لیگی رہنماؤں کا خیال تھا کہ نواز شریف کی اے پی سی میں تقریر سے عدالتی کارروائی پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔

ن لیگی رہنماؤں کا موقف تھا کہ مخالف وکیل یہ پوائنٹ اٹھا سکتا ہے کہ نواز شریف صحت مند ہیں اور تقریریں کر رہے ہیں وہ عدالت میں پیش کیوں نہیں ہو رہے؟

آل پارٹیز کانفرنس سے 2 روز قبل شہباز شریف کی قیادت میں 3رکنی لیگی وفد جن میں احسن اقبال، خواجہ آصف بھی شامل تھے، نے دیگر جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کے ساتھ گلگت بلتستان کے حوالے سے فوجی قیادت سے ملاقات بھی کی تھی۔

لیگی قیادت کا یہ بھی خیال تھا کہ نواز شریف کی تقریر سے مفاہمتی عمل بھی متاثر ہوسکتا ہے۔اسلئے نوازشریف کو تقریر نہیں کرنی چاہئے۔لیکن بلاول نے نوازشریف کو اے پی سی میں مدعو کردیا تھا۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف اور آصف زرداری کا اے پی سی سے وڈیو لنک خطاب دراصل مریم نواز اور بلاول بھٹو کا آئیڈیا تھا ، مریم نواز نوازشریف کے خطاب کے حق میں تھیں اور نوازشریف کو خطاب کیلئے قائل کیا۔

فوادچوہدری سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کا تو یہ دعویٰ ہے کہ نوازشریف کو جو تقریر دی گئی وہ مریم نواز کی ہی ہے۔

نوازشریف کیا تقریر کرنیوالے ہیں ، ن لیگ نے آخری وقت تک نواز شریف کی تقریر کے فیصلے کو ہوا نہ لگنے دی گئی۔ مریم نواز تقریر کے معاملے پر نواز شریف کو سپورٹ کر رہی تھیں۔نواز شریف کی مداخلت پر مریم نواز ، رانا ثناء اللہ، سعد رفیق، پرویز رشید کو لیگی وفد میں شامل کیا گیا۔

واضح رہے کہ پرویز رشید فوج مخالف جذبات رکھتے ہیں، اسلئے شہبازشریف نے انہیں سائیڈلائن کررکھا تھا ۔ پرویز رشید اور مریم نواز کو وفد میں شامل کرنے پر صحافتی حلقوں میں پہلے سے چہ میگوئیاں جاری تھیں اور خیال تھا کہ نوازشریف اور مریم نواز کی تقریر فوج اور عدلیہ مخالف ہوگی۔

دوسری جانب تحریک انصاف میں بھی وزراء نوازشریف کی تقریر چینلز پر نشر کرنے کے حق میں نہیں تھے لیکن وزیراعظم عمران خان نے یہ کہہ کر اجازت دیدی کہ نوازشریف اپنی تقریر سے خود ہی ایکسپوز ہوں گے جس سے یہ سوال بھی اٹھ رہا تھا کہ کیا وزیراعظم عمران خان کو معلوم تھا کہ نوازشریف کس قسم کی تقریر کریں گے یا اپنے روایتی حریف کی نفسیات سے واقف تھے؟

صحافتی حلقوں کے مطابق اس تقریر کا ن لیگ کو نقصان اور تحریک انصاف کو فائدہ پہنچا ہے اور تحریک انصاف اس تقریر کو جواز بناکر نہ صرف ن لیگ کے حق میں بیانیہ بناسکتی ہے کہ نوازشریف کی تقریر بھارتی لابی کو خوش کرنے کیلئے ہے بلکہ تحریک انصاف اس تقریر کو جواز بناکر مریم نواز کی ضمانت منسوخ کرواسکتی ہے اور نوازشریف کو وطن واپس لانے کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >