کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی، اسدعمر کی شیریں مزاری، ندیم بابر سے تلخ کلامی

وفاقی کابینہ اجلاس: وزیراعظم کی وزرا کو غیر ضروری بیان بازی نہ کرنے کی ہدایت ۔۔ ذرائع کے مطابق 3 وزراء میں جھڑپ ہوتے ہوتے رہ گئی۔اندرونی کہانی سامنے آگئی

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نے وفاقی وزراء کو غیر ضروری بیان بازی نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی وزیر فضول بات نہیں کرے گا کیونکہ اس کی کوئی ذاتی رائے نہیں ہوتی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تمام وزراء کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی وزیر حساس مذہبی معاملات پر کسی قسم کی کوئی بیان بازی یا بات نہیں کرے گا۔

شیریں مزاری نے اسد عمر سے شکوہ کیا کہ آپ ہمیں پورا ایجنڈا نہیں پڑھنے دیتے جس پر اسد عمر غصہ میں آگئے اور شیریں مزاری کو کھری کھری سنادیں۔

خبر رساں ادارے کے ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے ترقی و اصلاحات اسد عمر نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کے بعض بیانات پر اعتراض کرتے ہوئے ان کے متعلق کہا کہ تمام وزراء میں سے وہ سب سے زیادہ بولتی ہیں۔

کابینہ اجلاس کے دوران اسد عمر نے وزیراعظم کے مشیر برائے پٹرولیم ندیم بابر کو خوب سنائیں اور کہا کہ آپ پٹرولیم اور گیس کے معاملے پر غلط بیانی سے کام لیتے ہیں جس پر ندیم بابر نے کہا کہ نہیں آپ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ وزیراعظم نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں وزراء کو خاموش کرایا

واضح رہے کہ شیریں مزاری نے کچھ عرصہ قبل مولانا طار ق جمیل کو انکے خواتین سے متعلق بیان پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا جو تحریک انصاف کے سپورٹرز کو انتہائی ناگوار گزرا۔۔ اسی طرح شیریں مزاری نے شاہ محمودقریشی کو بھی میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور الزام لگایا تھا کہ انہوں نے کشمیر کا مقدمہ صحیح انداز سے نہین لڑا جس پر انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ ایسی باتیں کابینہ اجلاس میں کریں ناں کہ پبلک میں۔

سی سی پی او لاہور عمر شیخ بھی شیریں مزاری کے نشانے پر رہے اسی طرح شیریں مزاری کی صاحبزادی بھی قومی اداروں پر تنقید کرتی نظر آتی ہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >