ہماری پولیس کمزور طبقے کے سامنے شیر ہوتی ہے،سی سی پی او لاہور

سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے عابد ملہی کے گرفتار نہ ہونے اور نواز شریف پر بغاوت کے مقدمے کے حوالے سے حیران کن انکشافات

سی پی او لاہور عمر شیخ کا نامور صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا کے ساتھ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ میرا پولیس کی فیلڈ میں بہت زیادہ تجربہ ہے اور میں نے اس میں رہتے ہوئے بہت سی چیزیں ابزرو کی ہیں، میں نے اپنی سروس کے دوران یہ دیکھا ہے کہ ہماری سوسائٹی کے اندر تین سیگمنٹ ہیں، پہلا سیگمنٹ جو ٹاپ پر ہے وہ ہمارے معاشرے کا سیاسی یا طاقت ور تو سب کا ہے جن کے پولیس سے متعلق کام فوری طور پر ہو جاتے ہیں، دوسرے سیگمنٹ میں وہ لوگ آتے ہیں جن کے پولیس کے ساتھ تعلقات ہوتے ہیں اور اعلی افسران سے سفارش کروا کر اپنے کام کروا لیتے ہیں اور تیسرے سیگمنٹ میں وہ لوگ آتے ہیں جو غریب، نادار اور لاچار ہوتے ہیں جن کی پولیس فوری مدد کرنے کی بجائے ان پر چڑھ دوڑتی ہے اور اس بات کا محکمے میں موجود بہت سے افسران اعتراف کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب میں نے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس افسران اور اہلکار ان کو سزائیں دینا شروع کیں تو میرے محکمے کے بہت سے افسران اور اہلکاران مجھ سے ناراض ہو گئے اور مجھ سے گلے شکوے کرنے لگے کہ اس اقدام سے پولیس کا مورال گرے گا،جس پر میں نے انہیں کہا کہ جب پولیس والے رات کو پٹرولنگ پر نکلتے ہیں تو ان کو اس بات کی اجازت دے دی جائے کہ وہ اپنی مرضی سے ہر رات کو دو تین گھروں میں ڈاکہ ڈال لیا کریں اس اقدام سے ان کا مورال نیچے نہیں گرے گا، ہم پولیس والوں کو مس کنڈکٹ کی وجہ سے پکڑتے ہیں اور اس کی باقاعدہ انکوائری کروانے کے بعد ان کو سزائیں دی جاتی ہیں۔

سی سی پی او نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو پنجاب پولیس میں مارشلائزڈ نظام لانے کی تجویز اس لیے دی کیونکہ پولیس میں سزائیں دینے کا موجودہ نظام اتنا مؤثر نہیں ہے اور نہ ہی پولیس والے یہ سزائیں بھگتنے کے بعد اپنا قبلہ درست کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ میں نے وزیراعظم عمران خان کو تجویز دی کہ جو بھی پولیس میں مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوگا اس کا فوج کی طرح مارشل کوٹ کیا جائے تاکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم اور کرپشن کے ناسور کو ختم کیا جائے۔

عمر شیخ کار رؤف کلاسرا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ لاہور پولیس کو نیویارک پولیس پر آنے کے لئے مجھے 20 یا 30 ارب روپے کی نہیں بلکہ صرف تین ارب روپے کی ضرورت ہے جس کا میں تخمینہ بھی لگا چکا ہوں، کیونکہ ہمارے پاس ملزمان کو ٹریس کرنے کے لیے فورجی لوکیٹر نہیں ہیں، اس وقت پنجاب پولیس کے پاس ٹو جی لوکیٹرز ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں ملزمان کو پکڑنے میں دشواری کا سامنا ہے، اگر حکومت مجھے تین ارب روپیہ فراہم کر دیتی ہی تو میری بنائی گئی ٹیم لاہور میں ہی نہیں پنجاب میں ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں تبدیلی لا سکتی ہے۔

موٹروے پر ہے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عبد ملہی کو گرفتار نہ کر سکنے کے سوال پر سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا کہنا تھا کہ ہم صرف میڈیا کے سامنے خاموش ہیں کیونکہ میڈیا میری ہر بات کو حقائق سے ہٹ کر بیان کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ اب میں نے پولیس میں کورٹ مارشل کی بات کی ہے تو بہت ہی معتبر ہے نیوز چینلز نے میرے خلاف یہ کہا کہ کسی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کریمنل جسٹس سسٹم پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے، یہ کہ ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے اور ہم انشاء اللہ بہت جلد عابد ملہی تک پہنچ جائیں گے۔

سی سی پی او لاہور عمرشیخ کا نواز شریف پر درج مقدمے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ نواز شریف پر بغاوت کے مقدمے کے حوالے سے میں پہلے آگاہ تھا کیوں کہ ہمارے پاس مخالف کی جانب سے درخواست آئی تھی لہٰذا قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہمیں نواز شریف کے خلاف بغاوت کی ایف آئی آر درج کرنی پڑی، درخواست گزار کی جانب سے دی گئی درخواست پر اب ڈی آئی جی آپریشن لاہور کو انویسٹی گیشن کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، لاہور پولیس اس معاملے پر نہایت غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے تحقیقات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ نواز شریف کے خلاف بغاوت کے مقدمے میں کوئی سیاسی اثر و رسوخ نہیں ہے۔ بلکہ یہ درخواست ہے کہ عام شہری کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >