وزیراعظم عمران خان کا انصاف لائرز فورم سے خطاب کن کیلئے باعث تکلیف تھا؟

صحافی صدیق جان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا انصاف لائرز فورم سے خطا ب ان کرائے کی وکلاء تنظیموں کیلئے باعث تکلیف ہے جو اس وقت اپوزیشن کو رینٹ پر میسر ہیں۔

صدیق جان نے کہا کہ ان وکلاء تنظیموں پر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی سالہا سال کی انوسٹمنٹ ہے، ان تنظیموں کے بڑے وکیلوں کے پاس اپوزیشن رہنماؤں کے کرپشن کیسز ہیں، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تمام تر ہمدردیاں اپوزیشن کے ساتھ ہیں ۔

صدیق جان نے کہا کہ وکلاء تنظیموں کا کام ہوتا ہے کہ یہ تنظیمیں آئین و قانون کی بالادستی، غریب کو انصاف کیل فراہمی کیلئے کھڑی ہوں مگر عوامی مسائل پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونس کا کبھی ایک بیان نہیں آیا، پاکستان کی تاریخ میں ہسپتال پر حملہ کرنے والے وکیلوں کو قانون کی گرفت میں لانے کے بجائے ان تنظیموں نے ہر موڑ پر اس واقعے میں ملوث وکلاء کا ساتھ دیا ہے۔

صدیق جان نے کہا ان وکیلوں نے پنجاب حکومت پر دباؤ ڈالا، عدلیہ پر دباؤ ڈالا اور ججز کو دھمکیاں دیں اور وہ معاملہ دب گیا، یہ وکیلوں کی بدمعاشی ہے کہ یہ ججوں سے سر پھاڑ دیتے ہیں، ججز کو دباؤ میں لے آتے ہیں اور جج صاحب لیٹ جاتے ہیں، کسی ادارے یا حکومت میں ہمت نہیں ہے کہ ان وکلاء تنظیموں کے سامنے کھڑے ہوسکیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے وکلاء ونگ کے مضبوط ہونے پر اپوزیشن کی حمایت کرنے والی یہ تنظیمیں کمزور ہوجائیں گی، بلاول کو نیب نے طلب کیا ان تنظیموں کی جانب سے مذمتی بیان آگیا، مریم نواز نے نیب لاہور پیش ہوکر نیب پر حملہ کیا تو بھی ان تنظیموں کی جانب سے مریم کے حق میں بیان آگیا، جسٹس محسن اختر کیانی کے نواز شریف سے متعلق ریمارکس پر پاکستان بار کونسل کی جانب سے مذمتی بیان سامنے آگیا۔

صحافی نے کہا کہ انہیں تنظیموں کی جانب سے میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی مذمت بھی آجاتی ہے، رانا ثنا اللہ کے کیس میں وکلاء تنظیمیں سامنے آجاتی ہیں، وکلاء تنظیموں کی حکومت مخالف اے پی سی میں تمام اپوزیشن کی جماعتوں کو مدعوکیا گیا، عورت مارچ کی حمایت، احمد نورانی کیلئے حمایت۔

یہی وکیل جو کسی غریب کیلئے مفت میں کیس نہیں لڑتے مگر قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے مفت میں کیس لڑتے رہے، یہی وکیل جنہوں نے قاضی فائز عیسیٰ کا کیس مفت میں لڑا دیگر کیسز میں ان کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور تب قاضی فائز عیسیٰ ان کو انکار بھی نہیں کرتے کہ آپ نے میرا کیس مفت میں لڑا تھا میں اس کیس میں آپ کو نہیں سن سکتا، قاضی صاحب ایسا بھی نہیں کرتے، اور یہ وکیل ان سے ریلیف کی امید میں پیش ہوتے ہیں تاکہ مال پانی بھی بنتا رہے۔

اب ان تنظیموں سے فائدہ حاصل کرنے والے افراد کو یہ پریشانی ہے کہ اگر انصاف لائرز فورم متحرک ہوگیا ، تو وکلاء تقسیم ہوجائیں گے تو ان کی بلیک میلنگ کی کمر ٹوٹ جائے گی، اسی لیے وہ تقریب جس میں وزیراعظم نے تقریر کی بہت سے لوگوں کو کھٹک رہا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >