آئی جی سندھ مشتاق مہر کون ہیں؟سپریم کورٹ کے حکم پر انہیں کیوں ہٹایا گیا تھا؟

2018 میں بھی سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ مشتاق مہر کو عہدے سے ہٹایا تھا، کیا آپ اس کی وجہ جانتے ہیں؟

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے مطابق آئی جی سندھ مشتاق مہر نے2018 میں سندھ کے بعد بعض سیاسی کرداروں کی ایما پر منی لانڈرنگ کیس کے دونوں گواہوں کو اپنے ماتحت پولیس افسران کے ذریعے ہراساں کرایا۔

جس کے بعد سابق کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کو سندھ کے منی لانڈرنگ کیس پر اثرانداز ہونے اور دو اہم گواہوں کو پولیس گردی کے ذریعے منحرف کرنے کی کوشش کے الزام میں عدالتی حکم پر کی گئی تحقیقات کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق کراچی کے 2 سابق ایس ایس پیز کے خلاف بھی کارروائی اسی بنیاد پر عمل میں آئی تھی۔

ایف آئی اے کے مطابق 40 ارب روپے کے منی لانڈرنگ کیس کے تانے بانے سندھ کی حکومت کے مرکزی سیاسی کرداروں کی طرف نکلتے تھے۔ اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں 2اہم گواہ وعدہ معاف بننے جا رہے تھے کہ سابق ایڈیشنل آئی جی کراچی (موجودہ آئی جی سندھ) مشتاق مہر نے مبینہ طور پر سندھ کے بعد بعض سیاسی کرداروں کی ایما پر منی لانڈرنگ کے کیس کے دونوں گواہوں کو اپنے ماتحت پولیس افسران کے ذریعے ہراساں کرایا۔

انہیں کے حکم پر کراچی شرقی کے علاقے گلستان جوہر اور کراچی جنوبی کے علاقے گزری میں دونوں گواہوں نورین اسلم اور علی حسن راشدی کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور پولیس نےانہیں انتہائی خوفزدہ کیا۔ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تو متاثرہ دونوں گواہوں نے پولیس پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے جس پر اعلی عدلیہ نے سابق آئی جی سندھ امجد سلیمی کو بھی طلب کیا اور ان سے اس سلسلے میں سخت باز پرس کی گئی تھی۔

سندھ پولیس سربراہ کی لاعلمی پر عدالت نے اس معاملے کی تحقیقات کرانے کا حکم دیا۔ ایڈیشنل آئی جی آفتاب پٹھان سے معاملے کی تحقیقات کرائی گئیں تو انہوں نے اپنی رپورٹ میں ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر، دونوں اضلاع کے ایس ایس پیز سمیت متعدد پولیس افسران کو ذمے دار قرار دیا۔

اس رپورٹ پر ایکشن لیتے ہوئے ابتدائی طور پر دونوں تھانوں کے ایس ایچ اوز کو عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔ ایس ایس پی ایسٹ نعمان صدیقی کا تبادلہ کردیا گیا جبکہ ایس ایس پی ساؤتھ عمر شاہد نے ازخود اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیا تھا۔

اس کے بعد جب سابق ایڈیشنل آئی جی (موجودہ آئی جی سندھ) مشتاق مہر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، مشتاق مہرکوسی پی او کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی اور ڈاکٹرامیر شیخ کو ایڈیشنل آئی جی کراچی کا چارج دے دیا گیا تھا۔

  • میں حیران ہوں اب تک ان تمام پولیس والوں پر پولیس مارشل لاء لگا کر ان کرپٹ افسران کو فارغ کر کے تمام اختیارات رینجرز کے آفیسرز کے حوالے کر دیا جائے۔ یہ تمام کے تمام کرپٹ افسران ہیں جو کہ کرپٹ صوبائی حکومت کے غلام ہیںِ ان سب کو فارغ کر کے ان کی کرپشن کی تحقیقات کرانی جائیں اور ان کی جگہ رینجرز کے آفیسرز کو مستقل طور پر استعمال کیا جائے سپریم کورٹ سو موٹو نوٹس لے کر آرڈر جاری کر ے کیونکہ یہ عوامی مفادات متاثر ہو رھے ھیں جب تک کرپٹ لوگوں کو سبق نہیں سیکھا یا جائے گا ملک سیدھے راستے پر نہیں چل سکے گا

  • یہ کرپٹ افسر جبکہ سپریم کورٹ میں رپورٹ بھی پہنچ گئی اور یہ آفسر 2 معصوم شہریوں کو ہراساں کر رہا تھا اور نہ جانے کتنے ھزاروں جرائم میں یہ پولیس آفسر ملوث رہا ہوگا اس واقعے سے پاکستان کے جسٹس سسٹم کو دیکھا جا سکتا ھے ایسی طرح تمام ملزمان عدالتوں سے سزا کھائے بغیر رہا ہو جاتے ہیں جس طرح ایک ملزم عابد ملئ کئی مرتبہ جرائم کرنے کے بعد عدالتوں سے رہا ہوگیا اور موثر وے کا درد ناک واقع رونما ہوا۔
    یہ آئی جی سندھ اور اس کے تمام ساتھی ریاست سے بغاوت کرتے نظر آ رھے ھیں اور یہ انتہائی دکھ کی بات ہوگی اگر یہ لوگ دوبارہ نوکریوں پر واپس آگئے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >