نوازشریف اسی اسٹیبلشمنٹ کے طفیل ہی اقتدار میں آئے ، حبیب اکرم

نواز شریف کی جانب سے فوج اور موجودہ حکومت پر تنقید کئے جانے پر نجی ٹی وی کے تجزیہ نگار حبیب اکرم نے خود نواز شریف کو بھی اسی طاقت کی تقسیم کا حصہ قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ نواز شریف پاکستان کے پاور اسٹرکچر کے خلاف جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ درست بھی مان لیا جائے تو بھی یہ حقیقت نہیں چھپ سکتی کہ وہ خود بھی کل تک طاقت کی تقسیم کے اسی نظام کا حصہ تھے، حصّہ کیا تھے خود اس کے طفیل اقتدار میں آئے‘ ان بن ہوئی تو نکل گئے۔

نواز شریف پاکستان کے پاور سٹرکچر کے خلاف جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ درست بھی مان لیا جائے تو بھی یہ حقیقت نہیں چھپ سکتی کہ وہ…

Posted by Roznama Dunya on Wednesday, October 21, 2020

انہوں نے کہا کہ یہ محص اتقاق نہیں ہے نواز شریف وہ واحد سیاست دان ہیں جنہوں نے مقتدرہ کو موجودہ حکومت میں بدلنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا، ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا، انہوں نے فوج کوسیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی جو رسم شروع کی تھی اسے نواز شریف نے تاریخی عمل بنادیا، جنرل جیلانی مرحوم کے ذریعے میں وہ طاقت کے مرکز کے میں ایک تابعداد کے طور پر متعارف ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خود اس کے فریق بھی بن گئے،ان کے نظریات اور خیالات آخر میں اسی طرح بدلے جیسے خود ہماری حیات مقتدرہ میں بدلے،

 

جب تک ریاستی اداروں نے دائیں بازو کے نظریات اپنائے رکھے، نواز شریف دائیں بازو کے اتنے بڑے حامی رہے، کہ ملک میں اپنی تشریضات پر مبنی اسلامی نظام متعارف کروانے سے بھی نہیں چکے،جنرل پرویز مشرف کے دور میں نظریاتی اعتدال پیدا ہوا تو نواز شریف معتدل رہنما کے طور پر ابھرے، وہ اتنے آزمودہ تھے کہ محمد خان جنیجو سے لر کر آصف علی زرداری تک پاکستان کے سب ہی حکمرانوں کیخلاف وہ اہم ترین ہتھیار کے طور پر ہوئے، سیاسی مخالفین کوسزائیں دلوانے کیلئے عدالتوں کو گندا کرنے سے بھی گریز نہیں کیا،پرویز مشرف کے دور میں اپنے والد کے ذریعے معاملات درست کرنے کیلئے بھی کسر نہیں چھوڑی، یہ سیاست کی کہانی ہے خالص آمریت کے خمیر سے ان کی سیاست شروع ہوئی، اور ذاتی نقصانات نے انہیں جمہوریت کے راستے پر ڈال دیا۔

حبیب اکرم نے کہا کہ خالص جمہوریت نواز شریف کی ضرورت کبھی نہیں رہی، البتہ ایک حربے کے طور پر انہوں نے اسے وقتاً فوقتاً استعمال کیا، ان کی اداروں اور سیاست کے درمیان گفتگو میں کوئی منطقی ربط نہ دینے کا علم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادارہ رائے اور سیاستدانوں کی رائے میں انیس بیس کا فرق ہے، مگر ہماری قومی نالائقی اس معمولی فرق کو بھی ختم نہیں کرپاتی،سیاست دان اتنے خود غرض ہیں اختلافات کرنے والا ہی قانون کی زد میں آجاتا ہے،نواز شریف، عمران خان اور ہماری اسٹیبلشمنٹ اپنے اپنے مقام پر اسیر ہوچکے ہیں،ان تینوں کو سمجھنا ہوگا ملک چلانے کی ذمہ داری گھوم پھر کر ان تینوں پر آنی ہے، ان میں سے کوئی بھی مکمل طور پر غلط ہے نہ مکمل طور پر صحیح، رائے کا اختلاف ہے جو نظام کے تضادات کی صورت میں نمایاں ہورہاہے،اگر ایسا ہی رہا توملک کو برباد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا، اگرسب ہی فریق ایک ایک قدم پیچھے کی طرف اٹھالیں تو آگے بڑھا جاسکتا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >