جسٹس قاضی فائز عیسیٰ فیصلے کی آڑ میں فوج کو بدنام کرنیکی کوشش ناکام

مریم نواز کی جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کے فیصلے میں نہ پائے جانے والے مواد کو بنیاد بنا کر فوج کو بد نام کرنے کی ایک اور کوشش، صدیق جان

صدیق جان کے مطابق مریم نواز نے مسلح افواج کے خلاف نفرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے جاری کردہ فیصلے میں نہ پائے جانے والے مواد کو بنیاد بنا کر اپنے ٹوئٹر کے ذریعے فوج کو بد نام کرنے کی کوشش کی ہے۔ مریم نواز کے ٹویٹ کو ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے ریٹویٹ کیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو فالو کرنے اور پڑھنے والے کتنے عقل سے پیدل ہیں۔

صدیق جان نے کہا کہ مریم نواز کو جسٹس قاضی فائز عیسی کا فیصلہ اردو میں آنے تک کا انتظار کرنا چاہیے تھا تاکہ پچھلے فیصلوں کی طرح انہیں اس فیصلے کی بھی سمجھ آ جاتی، اب یہ بات واضح ہوتی چلی جارہی ہیں کہ مریم نواز اور ان کے والد نے نواز شریف کا واحد مقصد لوگوں کو فوج کے خلاف کرنا ہے، لوگوں میں فوج کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہوئے فوج کی مخالفت میں کھڑا کرنا ہے۔ جس کے لئے انہوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی جھوٹ کا سہارا لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے اپنے جاری ٹویٹ میں خفیہ ادارے یعنی آئی ایس آئی کو نشانہ بنایا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے خلاف آیا ہے، انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی جانب سے لگایا گیا الزام سپریم کورٹ کے فیصلے کا حصہ نہیں ہے، جس طرح مریم صفدر اعوان صاحبہ کو اپنا ٹویٹ ڈلیٹ کر دینا چاہیے تھا جو کہ انہوں نے ابھی تک نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے معافی مانگی ہے۔

صدیق جان نے بتایا کہ ن لیگی کبھی کہتے ہیں کہ ہماری لڑائی عمران خان سے نہیں بلکہ اس کو لانے والے اداروں کے ساتھ ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ ہماری لڑائی ان اداروں کے ساتھ نہیں بلکہ عمران خان اور اس کی کابینہ میں موجود وزراء کے ساتھ ہے، ان لوگوں کا آئے روز بیانیہ بدلتا رہتا ہے، مریم نواز نے اپنی ٹویٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کو دیانت دار اور صفاف کردار کی حامل شخصیت قرار دیا ہے۔

صدیق جان نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی دیانتدار ضرور ہوسکتے ہیں لیکن اگر وہ اپنی اہلیہ کی جانب سے بنائے گئے اثاثوں کی منی ٹریل اور رسیدیں عدالت کو دکھا دیتے تو وہ شفاف کردار کی حامل شخصیت بھی قرار دے دیئے جاتے لیکن ان کی جانب سے تاحال منی ٹریل اور اثاثوں کی رسیدیں نہیں دی گئیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں اپنے بیان میں صرف بیرون ملک بھجوائے گئے پیسوں کی رسید دکھائی تھی یہ نہیں بتایا کہ باہر بھیجے گئے پیسے کن ذرائع سے کمائے گئے تھے۔

صدیق جان نے بتایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور قومی اداروں پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور غلط ثابت ہوچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود مریم صاحبہ اپنی ٹویٹ کے ذریعے یہ تاثر دینے کی مسلسل کوشش کر رہی ہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ، بچوں اور ان کی قومی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے جاسوسی کی گئی ہے، جس کو سپریم کوٹ یکسر مسترد کر چکی ہے۔

صحافی صدیق جان کا کہنا تھا کہ مریم نواز اور ان کے والد نواز شریف کا اس وقت بیان یہ فوج مخالف بیانیہ ہے جس میں وہ آگے سے آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں، تاہم اب تو مریم نواز سپریم کورٹ کے فیصلے کا غلط حوالہ دے کر فوج کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اس کے علاوہ اس وقت ان کا اور کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔

  • جب جرنیل خود کھسرے بن کر خاموش ہیں اور اپنی ادارے اپنی شہیدوں غازیوں مجاہدوں ہر بھونکنے والے کتوں کو جواب نہیں دے سکتے تو اب ہمُ سب صرف اپنی فوج کی حمایت کرنی ہوگی مائینس جنرلز یہ کھسرے جنرلز اس قابل ہی نہیں کہ ا ن ہیجڑوں کو ڈیفنڈ کیا جائے جبکہ یہ کھسرے مسلسل خاموش رہ کر اپنی تو کتے والی کراتے ہی ہیں ساتھ ساتھ ہماری فوج کے جوانوں افسروں مجاہدوں شہیدوں غازیوں کی توہین انُ نا مردوں کی وجہ سے ہوتی ہے جبکہ ان ہیجڑوں کو فرض ہے اپنے ادارے اور اپنے جونئیر افسران ، غازیوں شہیدوں مجاہدوں کی توہین کرنے والے بھونکنے والے کتوں سے ان تمام کو ڈیفنڈ کرنا اور ملک اور ریاست کو ڈیفنڈ کرنا مگر ہیجڑے اور کھسرے کان لپیٹ کر اور دم دبا کر خاموش کسی کھڈ میں گھسے بیٹھے ہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >