نواز شریف لیگی رہنماؤں سے ہی ناراض، وجہ کیا ہے؟

نواز شریف لیگی رہنماؤں سے ہی ناراض، وجہ کیا ہے؟

انگریزی اخبار دی نیوز کے صحافی انصار عباسی نے خبر دی ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اب بھی رابطہ ہے مگر اس کے باوجود نواز شریف پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں نہ ہی جارحانہ حکمت عملی پی پیش قدمی سے پیچھے ہٹنے والے ہیں۔

مختلف ٹی وی چینلز پر کچھ تجزیہ کاروں نے دعوے کیے تھے کہ نیب کی جیل میں شہباز شریف سے مختلف لیگی رہنماؤں نے ملاقات کی تھی۔ ان ملاقاتوں سے متعلق وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر بھی بات کر چکے ہیں کہ نیب جیل میں 3 لیگی رہنماؤں نے شہباز شریف سے ملاقات کی۔

انصار عباسی نے مزید کہا کہ نواز شریف ان لیگی رہنماؤں سے ناراض ہیں جنہوں نے نیب کی جیل میں شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ نواز شریف اس لیے ناراض تھے کہ اُن تینوں لیگی رہنماؤں نے اسٹیبلشمنٹ کے سینئر نمائندے کی ’’درخواست‘‘ پر شہباز شریف سے ملاقات کی، ان تینوں لیگی رہنماؤں میں خواجہ آصف، احسن اقبال اور رانا تنویر حسین شامل تھے۔

احسن اقبال نے انگریزی اخبار کو بتایا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے صدر سے میاں نواز شریف کو آگاہ کرنے کے بعد ملاقات کی تھی۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ نواز شریف ان سے ناراض ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ ان کی ملاقات کا اہتمام اسٹیبلشمنٹ نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے نیب سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔

تاہم لیگی ذرائع کے مطابق وفد کے پاس شہباز شریف کیلئے ایک پیغام تھا۔ اس رابطے سے قبل، نواز شریف سے رابطے کی کوشش کی گئی تھی جنہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے پیغام لیکر آنے والوں کیلئے دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا۔ مگر اسٹیبلشمنٹ کے مطابق کے تینوں رہنماؤں کی شہباز شریف سے ملاقات کا اہتمام سلیمان شہباز کی جانب سے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔

شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز نے درخواست کی تھی کہ اس ملاقات کا انتظام کیا جائے۔ شہزاد اکبر نے بتایا کہ نون لیگ کے تین رہنماؤں نے شہباز شریف سے ملاقات کی اور اس صورتحال نے نواز شریف کو ناراض کر دیا۔

شہزاد اکبر کے مطابق نواز شریف ناراض ہیں کیونکہ ان تین رہنماؤں نے شہباز شریف سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ اُس وقت سے نواز شریف نے پارٹی کو براہِ راست کنٹرول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے بعد ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کے درمیان کئی رابطے ہوئے ہیں لیکن نواز شریف اپنا موقف نرم کرنے کو تیار نہیں۔

بلاول ، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان اور پی ڈی ایم کے دیگر رہنمائوں کے برعکس نواز شریف نے سینئر فوجی افسران کے نام لینا شروع کر دیا ہے اور کہہ رہے ہیں کہ ان افسران نے سپریم کورٹ سے ان (نواز شریف) کی سزاؤں کا ’’انتظام‘‘ کیا اور ساتھ ہی 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی اور عمران خان کے حق میں ’’انجینئرنگ‘‘ کی۔

سابق وزیراعظم کے سخت موقف نے حکومت، اسٹیبلشمنٹ حتیٰ کہ اپنی پارٹی کے کئی لوگوں کو پریشان کر دیا ہے۔ نواز شریف کے موقف کے برعکس پیپلز پارٹی اور اس کے چیئرپرسن بلاول بھٹو اپنی تنقید کا مرکز اسٹیبلشمنٹ سے ہٹا کر عمران خان حکومت کی طرف لیجا رہے ہیں۔

  • Hoor choop. Aur bhejo iss ko bahir. Aur rakho iss kee beti ko jail say bahi. Khabardar! Agar uss ki beti ki bail khatam karwanay ki koshish ki to Nawaz Sharif tum (Military) say mazeed naraaz ho jaey ga.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >