پشاور بم دھماکہ پر بھی حامد میر فوج کے اداروں پر الزام تراشی سے باز نہ آئے

پشاور بم دھماکہ پر بھی حامد میر فوج کے اداروں پر الزام تراشی سے باز نہ آئے۔۔

پشاور کے مدرسے میں دھماکہ کیا ہوا ، فوج کے مخالف کئی صحافیوں کو فوج پر تنقید کا موقع مل گیا اور تنقید کرتے ہوئے یہ بھول گئے کہ جس فوج پر تنقید کررہے ہیں اسی فوج نے دہشتگردی کے عفریت سے نجات دلائی۔پاک فوج کے سینکڑوں جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیکر دہشتگردی کا نہ صرف قلع قمع کیا بلکہ اب بھی دہشتگردی سے نبردآزما ہیں اور اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں۔ کچھ روز قبل 22 جوانوں نے بلوچستان اور شمالی وزیرستان میں دہشتگردانہ حملوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

فوج پر تنقید کرنیوالوں میں حامد میر بھی پیش پیش تھے جو نہ صرف فوج کے اداروں پر تنقید کرتے رہے بلکہ افغانستان میں ایک بم دھماکے کی تصویر کو پشاور بم دھماکے کی تصویر بناکر پیش کرتے رہے۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں حامد میر نے کہا کہ پشاور کے ایک دینی مدرسے کی مسجد میں مشکوک شخص نے بیگ میں بم رکھا اور چلا گیا تھوڑی دیر بعد بم دھماکہ ہو گیا کئی شہید اور زخمی ہو گئے خفیہ اداروں سے گذارش ہے کہ صرف تھریٹ الرٹ جاری کر دینا کافی نہیں ہوتا وہ سیاستدانوں اور صحافیوں کی بجائے بم دھماکے کرنے والوں کا پیچھا کریں

نہ صرف یہ کہ عسکری اداروں پر تنقید کرتے رہے بلکہ افغانستان کی 2019 کی ایک تصویر کو #PeshawarAttack کے ہیش ٹیگ کے ساتھ پشاور دھماکے کی تصویر ظاہر کرکے شئیر کرتے رہے

 

 

خیال رہے کہ جب سے پی ڈی ایم نے حکومت مخالف تحریک کا اعلان کیا ہے، حامد میر فوج پر تنقیداور پروپیگنڈا کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ نہ صرف پی ڈی ایم کے فوج اور ریاست مخالف بیانات کی حمایت کررہے ہیں بلکہ کچھ روز قبل ایک بھارتی چینل پر بیٹھ کر بھی پاک فوج اور ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

علاوہ ازیں معروف اداکار عاشر عظیم گل بھی افغانستان کی ایک تصویر کو پشاور مدرسہ میں دھماکے کی تصویر بناکر پیش کرتے رہےجو دراصل مئی 2019 کی ہے اور افغانستان کی ہے۔

  • بندہ ہو گشتی کا حرامی نطفہ اور را کا دلا اور اپنی گشتی ماں کے خصم مودی کے حق میں اور پاکستان کی فوج کے خلاف نہ بھونکے یہ ہو نہیں ہوسکتا

  • قاتلانہ حملے میں جو گولیاں حامد میر کو لگی تھیں ان میں سے ایک گولی جسم کے اندر رہ گئی تھی وہی گولی آجکل زیادہ تکلیف دے رہی ہے میر جعفر کے وارث کو

  • ہماری افغان پالیسی نے کتنی ماوں کی گودیں اجاڑ دیں اور کتنے سہاگ اجر گئے جانے کب یہ ضیای پودا جڑ سے اکھڑے اگا یا شائد ملک کوہی لے ڈؤبے گا

  • یے اداروں کی ہی مہربانی اور آزادی ہے ، ورنہ میر جعفر جیسے لوگ لولے ، لنگڑے ، ٹُنڈے اور اپاہج ہوکے داتا دربار کے باہر بھیک مانگ رہے ہوتے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >