نوازشریف کا بیانیہ پی ڈی ایم اور مسلم لیگ ن پر بوجھ بننے لگا

نوازشریف کا بیانیہ بوجھ بننے لگا۔۔ پی ڈی ایم میں دراڑیں پڑنے لگیں۔۔ قومی وطن پارٹی اور جمعیت اہلحدیث بھی نواز شریف بیانئے سے الگ

پی ڈی ایم میں پھوٹ پڑنے لگی، سابق وزیراعظم نوازشریف کا فوج کیخلاف بیانیہ پی ڈی ایم پر بوجھ بننے لگا ،پیپلزپارٹی کے بعد مزید دو جماعتوں نے نواز شریف کی طرف سے قومی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنانے کی مخالفت کردی،قومی وطن پارٹی اور جمعیت اہلحدیث کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی ودفاعی اداروں کی قیادت کو نشانہ بنانا ہمارا ایجنڈا نہیں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی بلاول بھٹو کے موقف سے اتفاق کیا ہے۔

دونوں جماعتوں کا کہنا ہے کہ فضل الرحمان بھی کسی شخصیت کا نام لینے کی بجائے سلیکٹرز یا اسٹیبلشمنٹ کے نام استعمال کرنے کے حامی ہیں۔

گزشتہ روز ن لیگی رہنما سابق وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری نے نوازشریف کے بیانئے کی وجہ سے ن لیگ چھوڑدی تھی۔عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا بیانیہ فوج میں بغاوت کا باعث بن سکتا ہے۔نواز شریف سپہ سالار کے خلاف نام لیکر اْکساتے ہیں۔

ثناء اللہ زہری نے کہا کہ واز شریف کی فطرت میں ڈسنا شامل ہے. نواز شریف نے اپنے محسنوں کو نہیں چھوڑا۔

عبدالقادر بلوچ اور سابق وزیراعلی بلوچستان ثناء اللہ زہری کے پارٹی سے علیحدگی کے بعد بلوچستان کے مختلف اضلاع کے صدور کی جانب سےن لیگ چھوڑنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

عبدالقادر بلوچ اور ثناءاللہ زہری کے پارٹی سے علیحدگی کے بعد بلوچستان کی جن اضلاع کے صدور نے پارٹی چھوڑ دی ہے ان میں مکران، قلات اور نصیرآباد شامل ہیں، جہاں کے صدور نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء سابق سینیٹر اعظم ریکی نے بھی مسلم لیگ ن سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔ اس سے قبل مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کے صدر انتخاب چمکنی نے بھی ن لیگ کے بیانئے سے علیحدگی اختیار کرلیا اور کہا کہنواز شریف کا حالیہ بیانیہ پارٹی کے نظریے کی نفی کرتا ہے، ہ ملک کی خاطر ہمارے پاک فوج کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں، ہم اس بیانئے سے اختلاف کرتے ہیں۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن امیر مقام کے بارے میں بھی خبریں ہیں کہ وہ بھی نوازشریف کے بیانئے پر پارٹی سے ناراض ہیں اور ن لیگ چھوڑنے پر غور کررہے ہیں۔۔ پارٹی میں متحرک رہنےو الے امیر مقام کافی دنوں سے خاموش ہیں۔

کچھ دن پہلے بلاول نے بیان دیا تھا کہ نوازشریف نے نام لیکر جب مخاطب کیا تو انہیں دھچکا لگا، یہ پی ڈی ایم کے ایجنڈے میں طے نہیں ہوا تھا۔ بلاول نے توقع ظاہر کی تھی کہ نوازشریف اپنے الزامات کے ثبوت پیش کریں گے۔

خیال رہے کہ کچھ روز قبل جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حسین احمد نے نوازشریف کو آستین کا سانپ قرار دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی صورت حال بالکل ایم کیو ایم جیسی ہے۔ اگر نواز شریف ن لیگ کے قائد ہیں اور ان ہی کا بیانیہ چلتا ہے تو ان کی پاکستان میں موجود قیادت اس کی پیروی کیوں نہیں کررہی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >