اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہونے والے پی ڈی ایم اجلاس میں کیا باتیں ہوئیں؟

اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پی ڈی ایم (پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ) کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن اتحاد میں شامل سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور فیصلہ کیا ہے کہ حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج اور جلسوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اجلاس میں شامل تمام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اتفاق کیا گیا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ سے بات ہو گی تو وہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہی ہو گی۔

اجلاس میں شریک محمود خان اچکزئی نے نواز شریف کے بیانیے کی حمایت کی جبکہ آصف علی زرداری نے کہا کہ ہدف واضح ہونا چاہیے، نئے محاذ نہیں کھولنے چاہئیں، کئی محاذ ساتھ کھولیں گے تو کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور اس تحریک کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوگا۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما امیر حیدر ہوتی نے پی ڈی ایم رہنماؤں کو لہجہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا، تجویز دی کہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عمران خان کی تقاریر جلسوں میں دکھانی چاہئیں۔

سربراہ اجلاس مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ اتنا بڑا معاملہ نہیں، کوئی لفظ معنی خیز نتیجہ نکالتا ہے تو طے کر لیں، شاہ اویس نورانی نے کہا کہ حکومت سے کوئی ڈائیلاگ نہیں ہو گا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے چند اتحادی رہنماؤں کے نواز شریف کے بیانیے سے اختلاف کو بھانپتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کے پاس نواز شریف کا بیانیہ قبول کرنے کے علاوہ راستہ کیا ہے؟

اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ میں فوجی قیادت کا نام لینے کی حمایت کرتا ہوں، جب وزیراعظم اور صدر کا نام لیا جا سکتا ہے تو کسی ادارے کے فرد کا نام کیوں نہیں لیا جاسکتا؟

ایک صحافی نے مولانا فضل الرحمان سے سخت سوالات پوچھے تو مولانا فضل الرحمان مخمصے کا شکار ہوگئے اور صحافی پر برہمی کا اظہار کیا اور مولانا پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >