اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق ”ڈان“کی خبر من گھڑت قرار

کچھ روز قبل نجی ٹی وی چینل پر وزیراعظم کا انٹرویو نشر کیا گیا جس میں میزبان اینکر عمران ریاض نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ کیا پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق کوئی دباؤ ہے؟

اس سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کسی ملک کا نام نہیں لیا مگر انہوں نے اس کے جواب میں انکار بھی نہیں کیا انہوں نے کہا کہ دباؤ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کا امریکا کے معاملات میں بہت بڑا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ پر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بہت زیادہ اثر و رسوخ تھا۔

وزیراعظم نے اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان اس لیے اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ ہم اپنے موقف میں قائد اعظمؒ کے نظریے کے پابند ہیں کہ جب تک فلسطین کو اس کے مناسب حقوق نہیں ملتے پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

اینکر نے سوال کیا کہ کیا مسلم ممالک کا پاکستان پر دباؤ ہے یا غیر مسلم ملک اس حوالے سے دباؤ بنا رہے ہیں جس کے جواب میں وزیراعظم نے کچھ نہ کہا اور اس کا جواب اس طرح دیا کہ جب پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا تو اس کا جواب وہ پھر آزادانہ انداز میں دیں گے۔

اس انٹرویو کے بعد پاکستان کے ایک انگریزی اخبار میں اس خبر کو براہ راست امریکی دباؤ کے نام سے چلایا جانے لگا کہ جس سے ایسا تاثر دیا گیا کہ وزیراعظم نے یہ کہا ہے کہ ان پر امریکا کہ جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ہے۔

یہ خبر بالکل جھوٹ اور من گھڑت تھی کیونکہ اس کے حوالے سے خبر دینے والے اس انگریزی اخبار نے بھی غیر ملکی نیوز ویب سائٹ کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ کسی غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے امریکا کا نام لیا ہے۔

اس خبر پر وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ ڈان نیوز کے پاس اگر انگریزی سے اردو ترجمہ کرنے والے لوگوں کی کمی ہے تو اس کام کے لیے وہ کسی میٹرک پاس طالبعلم کیلئے سفارش کر سکتے ہیں جو ان لوگوں سے بہتر کام کرے گا جن سے ادارہ پہلے سے یہ کام لے رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے بھی واضح موقف سامنے آیا اور ترجمان دفتر خارجہ نے ان خبروں کی تردید کردی۔ ترجمان کے مطابق "وزیر اعظم کہہ چکے ہیں مسئلے کے منصفانہ حل تک اسرائیل کوتسلیم نہیں کرسکتے، وزیر اعظم نے زور دیا تھا کہ پاکستان کی پالیسی قائداعظم کے وژن پر مبنی ہے، وزیر اعظم کے واضح موقف کے بعد بے بنیاد قیاس آرائیاوں کی گنجائش نہیں۔”

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ 1967سےقبل کی سرحدوں اوردارلحکومت القدس پرمشتمل فلسطین کے حامی ہیں، اقوام متحدہ ،او آئی سی قراردادوں اور عالمی قانون کے مطابق 2 ریاستی حل کے حامی ہیں۔

ایک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے اس خبر کی تردید کی گئی اور کہا گیا کہ ڈان نیوز کو "مڈل ایسٹ آئی” نے یہ خبر دی، مڈل ایسٹ آئی کو "لوکل میڈیا” نے یہ سب بتایا، اگر وزیر اعظم پاکستان نے ایسی بات کہی تھی تو ڈان نیوز خود لوکل میڈیا ہے، وہ غیر ملکی ویب سائٹ کے رپورٹ کو کیوں بنیاد بنا رہا ہے؟

  • All arab counteries have accepted..from day 1……Yasir Arfaat who was Palestinian leader (Implanted by West) also accepted….he married to a Israeli woman…….so.this does not matter if Pakistan accept this or not………..this is just a waste of time………..on the other hand this is good topic for Pakistani prositute anchors….


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >