پی ڈی ایم اجلاس میں مولانا فضل الرحمان اور محسن داوڑ میں تلخ کلامی

پی ڈی ایم اجلاس میں مولانا فضل الرحمان اور محسن داوڑ میں تلخ کلامی

خبر رساں ادارے کا دعویٰ ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے اجلاس میں بعض امور پر شرکا کے اختلافات کے باعث صورتحال نا خوشگوار ہوئی۔

اجلاس کے شرکا میں اس بات پر بحث کی گئی کہ گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کیلئے اپوزیشن کے منتخب ہونے والے ارکان کو حلف اٹھانا چاہیے یا نہیں جس پر کچھ ارکان حلف نہ اٹھانے کے حق میں تھے جبکہ باقی اسمبلی میں پہنچ کر معاملے کو اٹھانا چاہتے تھے۔

کئی سیاسی رہنماؤں کا خیال تھا کہ اگر گلگت بلتستان کے انتخاب میں دھاندلی کے حوالے سے اپوزیشن نے اپنے موقف کو مزید موثر اور مضبوط کرنا ہے تو حلف نہ اٹھانے کا فیصلہ ایک اہم پیغام کی شکل میں سامنے آئیگا۔

معاملے کو منطقی نتیجے تک پہنچانے اور چارٹر آف پاکستان کو حتمی شکل دینے کے لیے 5 رکنی کمیٹی بنا دی گئی۔

معروف اخبار کی جانب سے یہ بھی دعویٰ سامنےآیا ہے کہ اجلاس کے دوران سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان اور محسن داوڑ کے درمیان بحث ہوئی اور بات تلخ کلامی تک جا پہنچی۔

مولانا فضل الرحمان محسن داوڑ سے کی جانے والی بحث میں فاٹا انضمام کو مغربی ایجنڈا قرار دے رہے تھے ان کے جواب میں محسن داوڑ اصرار کر رہے تھے کہ اگر یہ مغرب کا ایجنڈا ہوتا تو 70سال پہلے مکمل ہو چکا ہوتا۔ محسن داوڑ نے انضمام کو عوامی امنگوں کے مطابق کیا گیا فیصلہ قرار دیا۔

  • اس دین فروش مذہب فروش فرقہ فروش اسلام فروش فضلو ڈیزل کا فاٹا سے کوئی تعلق نہیں ھے یہ فضلو ڈیزل اور محمود خان اچکزئی فاٹا اور پختون قوم اور صوب کے پی کے کی عوام کے سوداگر ہیں مدرسے کے بچوں کو یرغمال بنا کر ان کے نام کا چندہ کھانے والا فضول ڈیزل اور محمود خان اچکزئی پختونوں کا خون بچنے والے دو یہ دو افراد ہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >