نسیم زہرہ کاپیٹشن واپس لینے کا اعلان، غریدہ فاروقی کی وضاحتیں

نواز شریف کی تقاریر پر پابندی کخلاف صحافیوں کے عدالت جانے کے عدیل راجہ سے دعوے پر ردعمل سامنے آ گیا

گزشتہ روز صحافی عدیل راجہ کی جانب سے ایک دعویٰ سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا کہ پاکستان کچھ نامور صحافی نجم سیٹھی، نسیم زہرہ، ابصار عالم، عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی اور ضیاالدین نے نوازشریف کی تقاریر پر لگی پابندی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ چند ہفتے قبل سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں کچھ صحافیوں سے ناشتے پر ملاقات کی تھی، اس میں انہوں نے صحافیوں کو نواز شریف کی تقریر پر لگی پابندی کے خلاف درخواست دائر کرنے کا کہا جس پر چند صحافیوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

عدیل راجہ کے دعوے پر اینکر پرسن اور صحافی نسیم زہرہ اور غریدہ فاروقی کا ردعمل سامنے آ گیا۔

نسیم زہرہ نے عدیل راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس دعوے میں ناشتے والی بات بالکل مضحکہ خیز ہے البتہ انہیں یہ کہا گیا تھا کہ بطور صحافی میڈیا کی آزادی کے لیے ایک پٹیشن دائر کی جائے گی۔ مگر یہ پٹیشن تو آرٹیکل 19 کے تحت عدالتی مفرور قرار دیئے گئے شخص کی حق میں ہے۔

نسیم زہرہ نے کہا کہ وہ اپنی پٹیشن واپس لیں گی اور اپنے پروگرام اور کالم میں بھی اس پر بات کریں گی۔

جس کے جواب میں عدیل راجہ نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ یہ بھی بتا سکتی ہیں کہ یہی وہ معاملہ تھا جس کے لیے نجم سیٹھی نے ان سے رابطہ کیا تھا؟

نسیم زہرہ نے یہ بھی کہا کہ کیا عدیل راجہ اپنے اس بے بنیاد دعوے کے لیے بھی معافی نہیں مانگیں گے کہ صحافیوں نے شاہد خاقان عباسی کے کہنے پر یہ پٹیشن دائر کی ہے؟

جس کے جواب میں عدیل راجہ نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ملاقات سیرینا ہوٹل میں ہوئی جہاں پر صحافیوں سے پٹیشن فائل کرنے کے لیے شناختی کارڈ بھی مانگے گئے اور صرف یہی نہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ معاملہ کب اور کہاں سے شروع ہوا تھا۔

اسی معاملے پر خاتون اینکر پرسن غریدہ فاروقی کا کہنا تھا کہ وہ آج اپنے نزلہ اور زکام کی وجہ سے اس پٹیشن کی سماعت میں عدالت پیش نہیں ہو سکیں۔ البتہ انہوں نے یہ ضرور کہا کہ انہوں نے درخواست دائر کرنے سے پہلے پڑھنے کےلیے مانگی تھی جو کہ دائر ہونے کے بعد ہی ان کو پڑھنے کے لیے ملی۔

غریدہ فاروقی نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ درخواست دائر کرنے کا مقصد کسی ایک فرد کو فائدہ پہنچانا نہیں تھا بلکہ یہ تو صحافتی آزادی کا بنیادی اصول تھا جس کی بنیاد پر درخواست دائر کی گئی تھی۔

  • یہ حرام خور صحافیوں کا ٹولہ ایک ناشتے پر صحافت کو نیلام کر دیا ان جیسے صحافیوں نے لفافہ صحافت کو زندہ رکھا ہؤا ھے صحافت کو بدنام کرنے والے صحافیوں کی ٹولے کی حقیقت عوام کے سامنے آگئی ھے

  • Jhootae. Lififa recieving Journalist Manipulated by pmln goons just to create a issue and baewaqoof realize that petition is null n void as its all about crimnal nuwaz shareef not about freedom of press. Jhootae mukkar ghudddar pakistan kae dushmun recieve lifafas regularly by pmln all were caught red handed 😂😂😂

  • Like PDM. rift emerged in between the petitioners.
    Asma Shirazi also withdraw her name from Petition.

    BUT DOESN’T MAKE ANY DIFFERENCES AS THE WHOLE PAKISTAN ALREADY HAS BEEN IDENTIFIED THE HERD OF PETITIONERS AS…THE CRUDEST LIFAFA JOURNALIST OF MEDIA. 😜

  • I always maintain that none of them are journalist in real sense of the word. Most are merely an anchor person, who by way of "sifarish” or favour are placed on journalist chair to put forward one person or a particular party view. A journalist should state the absolute fact/s (truth).


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >