بھارت سے پاکستان کو مزید کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ سابق سربراہ آئی ایس آئی

بھارت سے پاکستان کو مزید کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ سابق سربراہ آئی ایس آئی

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے بدھ کے روز غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیئے جانے والے انٹرویو کے دوران کہا کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت نے جو کر دیا ہے اس کے بعد ہمیں بھارت سے مزید کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ وہ اپنی گندگی میں خود ہی دھنستا چلا جا رہا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے کہا کہ بھارت نے غیر قانونی طور پر کشمیر پر قبضہ کر کے ثابت کر دیا کہ وہ اس سے زیادہ کچھ کر نہیں سکتا تھا، مگر ہمیں اب اس طرح بھی سکون سے نہیں بیٹھنا چاہیے کہ ہمیں بالاکوٹ جیسے کسی واقعہ کا سامنا کرنا پڑ جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اب اگر کوئی بڑا مسئلہ ہے تو وہ ہے معیشت، سیاسی عدم استحکام اور سماجی ہم آہنگی۔ کیونکہ معیشت کی حالت خراب ہے اور حکومت کی ساکھ بھی اچھی نہیں کیونکہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس حکومت کو لانے میں فوج کا کردار ہے۔

انہوں نے بلوچستان کے کچھ علاقوں میں بدامنی کے عنصر پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں لوگ سیاسی طور پر بدامنی کا شکار ہیں کیونکہ وہ خود کو اجنبی اور محروم تصور کرتے ہیں۔ پاکستان کے مسائل کی بنیادی وجہ انہوں نے موروثی اندرونی مسائل کو قرار دیا جو کہ ہمیشہ سے ہی درپیش رہے ہیں۔

اسد درانی نے کہا کہ سیاسی امور میں فوج کی مخالفت ہونی چاہیے یا نہیں ہونی چاہیے یہ ایک ایسی بحث ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں مگر اب تک کے تجربے کے مطابق جب بھی فوج نے سیاسی معاملات میں مداخلت کی سیاسی جماعتوں نے فوج کو بے دخل کر دیا ہے، کیونکہ ایوب خان ذوالفقار بھٹو کو باہر ہی رکھنا چاہتے تھے مگر وہ واپس آئی اور منتخب ہوئے اور ضیا الحق کے بعد بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھی منتخب ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں بھی یہی غلطی ہوئی جب دو سیاسی جماعتوں کو انہوں نے اقتدار سے باہر کرنے کی کوشش کی مگر یہ دونوں اقتدار میں آئیں اور ان کو باہر کر دیا اس سے ثابت ہوا کہ سیاسی انجینئرنگ نقصان دہ ہوتی ہے۔ عمران خان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تاثر ہے کہ وہ خاکی بوجھ کے ساتھ اقتدار میں آئے ہیں۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا خیال ہے کہ گلگت بلتستان کی حیثیت تبدیل کرنا کشمیر کاز کے لئے ایک دھچکا ہوگا۔ انہوں نے کہا "جب میں کشمیر سے متعلق امور کی دیکھ بھال کر رہا تھا تو میرے ایک قریبی دوست یوسف نے مجھے سمجھایا کہ جس دن ہم نے گلگت بلتستان کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی غلطی کی ہے ، یہ ہماری کشمیر کاز کے لئے بہت بڑا دھچکا ہوگا” انہوں نے کہا کہ "اگر آپ چاہتے ہیں تو آپ جی بی کو زیادہ سے زیادہ حقوق دے سکتے ہیں ، لیکن اسے زبردستی پاکستان کا ایک صوبہ نہیں بنانا چاہئے۔”

انہوں نے بلوچستان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ تین طریقوں سے بہتر طریقے سے نمٹایا جاسکتا تھا سب سے پہلے سیاسی ، معاشی اور معاشرتی لحاظ سے لیکن ہم نے اسے لے لیا اور اسے صوبہ بنا دیا اور آج تک اسے سنبھالا نہیں جا رہا ہے۔
اسد درانی نے کہا کہ وہ پہلے سے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کو کے پی میں ضم کرنے کے بھی مخالف تھے کیونکہ "500 سالہ قدیم نظام کچھ معاملات میں ہمارے سے بہتر چل رہا ہے”۔

  • Asad Durrani…is a doubtful man. He is a close friend of Ex RAW chief, A.S. Dulat.
    Surprising …as most of his comments in interview are against the interest of Pakistan such as….he is against the merger of FATA with KPK.
    He is against of making Gilgit a province. Which India also don’t want.
    Referring to Imran Khan, he said that "there was an impression that he had come to power with a heavy burden”.
    This is a PDM & Indian narrative a propaganda against an honest PTI govt & the Army to undermine its credibilities.

    When Durrani is endorsing the Indian-PDM narrative….Stephen Sackur of BBC in Hardtalks….proved on the face of Ishaq Dar that 2018 Election was a Fare & Free Election certified by EU Election Observation Mission EOM.

    Look at the ISPR twitter: Lt Gen Asad Durrani, Retired being called in GHQ on 28th May 18. Will be asked to explain his position on views attributed to him in book ‘Spy Chronicles’. Attribution taken as violation of Military Code of Conduct applicable on all serving and retired military personnel.

    Probably because that Durrani is angry on Army…& PTI Govt.

  • انڈیا نے پہلے بھی اس بہن کے بھڑوے کو پیسے دے کر پاکستان اور فوج کے . خلاف بکواس لکھوائی تھی۔ یہ کنجر آدمی ہے۔ اس کا کورٹ مارشل ہوا ہے۔ کتے کے بچو جس دیس اور فوج کا کھاتے ہو اسی کے خلاف بھونکتے ہو۔ یاد رکھنا غدار کی غداری اس کی اگلی نسلوں کا بھی پیچھا کرتی ہے۔ میر جعفر میر صادق کو آج بھی ملت گالیاں ہی دیتی ہے۔ اس کی آل اولاد کہیں بھی ان سے اپنا تعلق ظاہر نہیں کرتی ہو گی جبکہ ٹیپو سلطان اور اقبال کی نسلیں فخر سے اپنے آباؤ اجداد کا تعارف کرواتے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >