بی بی سی کیطرح پاکستانی اینکرزسیاستدانوں سے سوالات کرنیکی جرات کیوں نہیں رکھتے؟

بی بی سی کے اینکر کی طرح پاکستانی اینکرز سیاستدانوں سے سوالات کرنے کی جرات کیوں نہیں رکھتے؟ جانی اندرونی کہانی روف کلاسرا کی زبانی

سینئر تجزیہ کار اور کالم نگار روف کلاسرا کے مطابق پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار برطانیہ میں بی بی سی کے اینکر کو جواب دیتے ہوئے بالکل بھی مطمئن نہیں کر سکے، اسحاق ڈار کے انٹرویو کو لے کر سوشل میڈیا پر لوگوں کی جانب سے اچھا خاصا رگڑا لگایا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا شہر یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ پروگرام ہارڈ ٹاک تھا کیپٹل ٹاک نہیں، تاہم اسحاق ڈار پاکستانی صحافی سمجھ کر پروگرام بنائے تھے۔

اور بتایا کہ جب اسحاق ڈار پاکستان کے وزیر خزانہ پنجاب تب ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں وہ صحافی کے سوال پوچھنے پر سخت ناراض ہو جاتے ہیں اور اسے وہاں سے باہر نکل جانے کے لیے کہہ دیتے ہیں لیکن اس کے بالکل برعکس ہیں بی بی سی کے اینکر کے سامنے اسحاق ڈار کچھ بھی نہ کہہ سکے اور وہاں پر صحافی کے سوالات کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے رہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی صحافی اس قابل نہیں ہیں کہ ان کے سوالات کا جواب دیا جائے، انہوں نے پاکستانی صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ معذرت کے ساتھ میں تمام صحافیوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ وہ کیوں نہیں کرتے؟ اگر وہ آپ کے سوالات کا جواب نہیں دے سکتے تو پھر نہ آئے آپ کے پروگرام میں، انہوں نے کہا کہ جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ان لوگوں سے سوالات کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے کہا کہ اگر ان لوگوں سے سخت قسم کے سوالات کیے جائیں گے تو یہ ہمارے شو میں نہیں آئیں گے اور ہمارے پروگرام کی ریٹنگ نہیں آئے گی۔

رؤف کلاسرا نے اپنے وی لاگ بتایا کہ جتنے بھی بڑے لوگ ہوتے ہیں یہ انٹرویو دینے سے پہلے ہی ایس او پیز طے کر لیتے ہیں کہ آپ ہم سے کون سے سوالات پوچھ سکتے ہیں اور کون سے نہیں، انہوں نے بتایا کہ ماضی میں بھی عمران خان سے غیر ملکی صحافی نے اپنے انٹرویو میں جوابات دیے تھے۔

رؤف کلاسرا نے اپنے بھی لوگ میں شہید بے نظیر بھٹو کا وہ کلپ بھی شیئر کیا جس میں پاکستانی صحافی ان سے سخت قسم کے سوالات کرتا ہے جس پر وہ انٹرویو کے درمیان میں اٹھ کت وہاں سے چلی جاتی ہیں، کیا ادا پاکستانی سیاستدان اس بات کے ہاتھ نہیں ہیں کہ انہیں انٹرویو کے درمیان بیچ میں روکا جائے اور ٹوکا جائے، وہ اس بات کی طرف آتے ہی نہیں ہیں۔

  • پینڈو’ بُغضِ عمران میں جل بھُن کر کباب ہو گیا،،، 70 سالہ سڑے ہوئے نظام میں تو پی ٹی آئی جیسے نوزائیدہ پارٹی، اور حکومت کو تو 3-2 سال گند کا کی مقدار کا تعین کرنا مشکل ہوتا ھے

  • if journalists have moral authority then no one can explout them to set SOPs, you guys are part of corruption and sell yourleves for plots and gov protocols that is why you cannot dare to ask proper questions and that is why pakistani awam is not taking you guys serious anymore

  • Apart from lifafa, another thing that impedes Pakistani journalists from asking difficult questions is their low mental caliber. They don’t think beyond certain simple questions. However, Moeed Pirzada, Kashif Abbasi, Talat Hussain etc, can think deep.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >