حکومت نے ایم کیو ایم سے مل کر پاکستان کی معاشی شہہ رگ شب خون مارا،مصطفی کمال

پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے متنازع مردم شُماری کی منظوری کیخلاف 17 جنوری 2021 بروز اتوار دوپہر 2 بجے نرسری شاہراہِ فیصل سے کراچی پریس کلب تک احتجاجی ریلی اور احتجاجی مظاہرے کی نئی تاریخ کا اعلان کر دیا۔

مصطفی کمال نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ عمران خان کی حکومت نے ایم کیو ایم کیساتھ مل کر پاکستان کی معاشی شہ رگ اور اسکے باسیوں پر شب خون مارا ہے۔ کراچی کی غلط مردم شُماری کو منظور کرکہ حکومت عوام میں احساس محرومی کو فروغ دے کر دہشتگرد بنانے کا راستہ ہموار کررہی ہے۔

انہوں نے کہا اگر دشمن یہ کام کرے تو سمجھ آتا ہے لیکن پاکستان کی حکومت ہی عوام کی نسل کشی کرے تو کس سے فریاد کریں۔ ملک کی معاشی شہہ رگ کو نقصان پہنچا کر فائدہ صرف ملک کے دشمنوں کو ہوگا۔ کراچی سبکا ہے، اب سب کراچی کے بنیں۔ کراچی پر ظلم کیخلاف احتجاج ہر شہری کا فرض ہے۔

چیئرمین پی ایس پی نے بتایا کہ ہم نے غلط مردم شُماری کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان کو نوٹس لینے کیلئے خط لکھا ہے، چیف جسٹس صرف نادرا کا ڈیٹا منگوا لیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ ووٹرز لسٹ میں افراد زیادہ اور مردم شُماری میں کم ہیں۔

مصطفی کمال نے کہا ایک بار پھر اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کی کوششیں  کی جا رہی ہے لیکن عوام لاتعلق ہے کیونکہ اختیارات اور وسائل پر قابض صوبائی حکومتوں نے عوام تک اختیارات اور وسائل منتقل ہی نہیں ہونے دیے لہذا اب وہ کہتے ہیں کہ اگر اختیارات ہمارے پاس نہیں تو ان کے وزراء اعلیٰ کے پاس بھی کیوں ہیں؟

چیئرمین پی ایس پی کے مطابق اٹھارویں ترمیم سے صوبے کے وزیراعلیٰ خود مختار ہو گئے، انہوں نے وفاق سے بھی اختیارات لے لیے اور نچلی سطح کے اختیارات بھی اپنے ہاتھوں میں لے لئے۔ اگر صوبے کے حکمران اٹھارویں ترمیم کو بچانا چاہتے ہیں تو عام آدمی کو بااختیار بنا دیں، وہ خود اس کی حفاظت کریں گا، 25 کروڑ عوام سے اختیارات لینا آسان نہیں۔

مصطفی کمال نے کہا کہ اب فیصلہ حکمرانوں نے کرنا ہے کہ وہ عوام کو با اختیار بنا کر اختیارات نچلی سطح پر دیں گے یا پھر واپس وفاق کو دینگے۔عمران خان اگر واقعی موروثی سیاست کے خاتمے کے لیے مخلص ہیں تو نئی قیادت پیدا کریں جو صرف بلدیاتی حکومتوں کے ذریعے ہوگی۔

سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ اہلیانِ کراچی کو حکمرانوں اور صاحب اقتدار لوگوں تک اپنی آواز پہنچانی ہوگی۔ مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مردم شُماری کو متنازع رہنے دیں اس پر مہر ثبت نہ کریں۔

انہوں نے کہا بلدیاتی انتخابات بھی ویسے ہی کرائیں جیسے عام انتخابات کرائے گئے تھے۔ اس کیلئے غلط مردم شُماری کو بغیر آڈٹ کے حتمی تصور کرنے کی ضرورت نہیں۔ عمران خان 22 سال تک موروثی سیاست کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرتے رہے لیکن آج جب انہیں موقع ملا ہے تو وہ اپنی کارکردگی سے ان خاندانوں کو مضبوط کر رہے ہیں جو نسل در نسل ہم پر حکمرانی کرتے رہے۔

چیئرمین پی ایس پی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں بلدیاتی نظام کو غیر فعال کر دیا گیا، پنجاب کے بلدیاتی نمائندوں کو ڈھائی سال قبل ہی بیک جنبش قلم گھر بھیج دیا گیا۔ نواز شریف نے خود کو نکالے جانے پر احتجاج کیا لیکن کبھی یہ نہیں پوچھا کہ ان بلدیاتی نمائندوں کو کیوں نکالا جس سے عوام کو فائدہ تھا۔ جب تک عوام کو نئے نمائندوں کے آپشن نہیں ملیں گے، موروثی سیاست کا خاتمہ نہیں ہوگا۔

سید مصطفیٰ کمال نے کشمیر میں پی ایس پی کی رجسٹریشن اور نومنتخب عہدیدارن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، پاک سر زمین پارٹی آزاد جموں و کشمیر کےکشمیریوں کی امنگوں کی ترجمان ہوگی۔ حکمرانوں کے زبانی کلامی وعدوں سے تنگ کشمیریوں کو پاک سر زمین پارٹی کی صورت میں اب باکردار، بہادر اور باصلاحیت قیادت میسر ہے جو انہیں کے درمیان میں ہے، کشمیری پاک سر زمین پارٹی کا ساتھ دیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >