فارن فنڈنگ کیس سے متعلق نواز شریف کی غلط بیانی صدیق جان نے بے نقاب کر دی

صحافی صدیق جان نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں نواز شریف نے اپنے 12 منٹ کے ویڈیو پیغام میں 13 جھوٹ بولے ہیں۔

اپنے ویڈیو بلاگ میں صدیق جان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے خلاف کیس فارن فنڈنگ کا نہیں بلکہ ممنوعہ فنڈنگ کا ہے، اور نواز شریف کے بقول یہ سیدھا سیدھا مقدمہ ہے ، اگر یہ مقدمہ ہوتا تو 15 دسمبر 2017 کو سپریم کورٹ فیصلے کے بعد اس وقت مسلم لیگ کی حکومت پی ٹی آئی کے خلاف ریفرنس بنا کر سپریم کورٹ بھیج سکتی تھی اور تحریک انصاف پر پابندی لگوا سکتی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2014 میں یہ کیس اکبر ایس بابر سپریم کورٹ لے کر گئے اگر اس کیس میں دم خم ہوتا تو مسلم لیگ ن کی حکومت اس وقت اس کیس کی بنیاد پر تحریک انصاف کو کالعدم قرار دلوا چکی ہوتی، تاہم اب اس کیس کو اس قد ر جو اہمیت دی جارہی ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ آجکل پی ڈی ایم کے پاس کوئی اور ایجنڈ انہیں ہے ۔

صدیق جان نےکہا کہ پی ڈی ایم اپنے تمام تر اہداف سے پیچھے ہٹ کر اب فارن فنڈنگ کیس کو لے کر بیٹھ گئی ہے ، اصل حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی اپنے فارن فنڈنگ کیس میں بری طرح پھنس گئے ہیں ، نواز شریف کا اس کیس کا موازنہ اپنے کیسز سے کرنے کی بات بھی بے تکی ہے نواز شریف کے خلاف جو کیسز چلائے گئے اور جیسے تحقیقات ہوئیں اس کے پیچھے سپریم کورٹ آف پاکستان کے آرڈرز تھے۔

صدیق جان نے نواز شریف کے خلاف پاناما تحقیقات کے تمام مرحلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس وقت جو بھی تحقیقات ہوئیں اس میں کسی بھی جگہ قانون کو نہیں توڑا گیا ہر مرحلے میں قانون و آئین کے مطابق معاملات کو آگے بڑھایا گیا تھا، نواز شریف نے کہا کہ انہیں اقامے کی بنیاد پر نااہل کیا گیا تو در حقیقت انہیں اقامے کی بنیاد پر نہیں ملنے والی تنخواہ کو ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر نااہل کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان سے منی ٹریل مانگنے والے نواز شریف نے آج تک خود اپنے فلیٹس کی منی ٹریل فراہم نہیں کی، نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان مجرم ہے، عمران خان کے حق میں سپریم کورٹ سے فیصلہ آچکا ہے۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ دیا نہیں ہے ، خود نواز شریف کو سپریم کورٹ نے تاعمر نااہل قراردیا، 3 کیسز میں اشتہاری ہیں 2 میں مفرور ہیں اور خود کو وہ بے قصور قراردیتے ہیں۔

  • ن لیگ اور پیپلز پارٹی کس منہ سے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کرنے جارہے ہے
    24ستمبر2020 کے الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے مطابق دونوں جماعتوں نے 4 سال سے سکروٹنی کمیٹی کو اپنےکھاتوں میں آنے والےاربوں روپے کی رسیدیں جمع نہیں کروائی
    5نومبر کی ڈیڈ لائن بھی گزر گئی
    ایک چوری اور پھرسینہ ذوری

  • ویسے بائی دی وے امرتسری کنجر اور دلے ہاراں والے ولد نا معلوم گاہک رام گلی امرتسر والے کی اولاد نواز شریف بٹ اور اس کے ٹبر اور گشتی فراری وغیرہ اگر سچ بولیں تو بریکنگ نیوز بنتی ہی

  • کیا چوتیا صحافی بنا ہوا ہے۔ یہ کیس الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔ تو ن-لیگ کی حکومت اس میں کس طرح مداخلت کر سکتی تھی؟ جاہل کے بچے یوتھیے بوٹ پالشیے۔ سپریم کورٹ کا ایک سابق جج یہ بات کہہ چکا ہے کہ جو حقائق سامنے آئے ہیں اس کے لحاظ سے پھٹی آئی کے لیے صورتحال کافی خطرناک ہے۔ اس کے علاوہ شیخ وقاص اکرم نے بھی اس کیس کے میرٹس پر بات کی ہے اور تفصیل سے بتایا ہے کہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کی کون سی شق لاگو ہوتی ہے۔ آیا وڈا قانون دان بوٹ پالشیا کہیں کا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >