براڈ شیٹ سے معاہدہ، پاکستان کو بھاری جرمانہ ہونے کا زمہ دار کون ہے؟

وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر براڈ شیٹ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تفصیلات سامنے لے آئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے داخلہ و احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں آج کی پریس کانفرنس میں براڈ شیٹ سے متعلق کچھ اہم چیزیں بتانا چاہتا ہوں، وزیراعظم کی ہدایت پر براڈ شیٹ کے ساتھ ہونے والے حکومت پاکستان کے معاہدے کی تفصیلات پبلک کی جا رہی ہیں، جس کے بغیر اس معاملے میں شفافیت ممکن نہیں تھی۔

بیرسٹر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر اٹارنی جنرل آفس نے براڈ شیٹ سے متعلق اہم دستاویز پبلک کرنے کیلئے وکلا سے رابطہ کیا، جس کے جواب میں ہمیں براڈشیٹ کی جانب سے ای میل موصول ہوئی ہے، جو ان دستاویزات کو پبلک کرنے کے حوالے سے تحریری اجازت ہے، لائبلٹی اور کوانٹم کی دستاویز منظرعام پر لانےجارہےہیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کا پریس کانفرنس میں معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ براڈشیٹ کیساتھ ایسٹ ریکوری کامعاہدہ 2000میں ہوا، اس وقت جون2000میں پرویز مشرف کی حکومت تھی اور دسمبر2000میں نوازشریف ڈیل کرکے سعودی عرب روانہ ہو گئے، اکتوبر 2003 میں اس وقت کی حکومت نے براڈ شیٹ کیساتھ معاہدہ منسوخ کیا۔

شہزاد اکبر کے مطابق براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدے کی منسوخی کے بعد سیٹلمنٹ پر ادائیگی کے وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، 2016 کو لائبلٹی ایوارڈ پاکستان پر ہوتی ہے، جب نواز شریف وزیراعظم تھے، اگست 2016 میں اس کی سماعت  ہوتی ہے، جس پر جولائی 2018 میں فیصلہ آیا اور ہماری حکومت اگست 2018 میں آئی تھی۔

جس پر فیصلہ براڈشیٹ کے حق میں آ جاتا ہے اور 31 دسمبر 2020 کو ادائیگی کر دی جاتی ہے، ہمارے پاس فہرست میں ان لوگوں کے نام بھی موجود ہیں جن کی مد میں یہ ادائیگی کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ براڈ شیٹ نواز شریف کی ایون فیلڈ پراپرٹی کی مد میں حصہ دیا گیا، شریف خاندان کی مد میں 21.5 میں سے 20.5 ملین ادا کرنا پڑے، جبکہ شون گروپ ،شیر پاؤ ودیگر کی مد میں صرف 1.08 ملین ڈالر ادا کئے، ہماری حکومت کو ماضی کے خمیازے بھگتنے پڑ رہے ہیں، نواز شریف کے لندن میں ایون فیلڈ سمیت دیگر اثاثے ثابت ہو چکے ہیں۔

بیرسٹر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ہم نے آج وزیراعظم عمران خان کے حکم پر یہ دستاویزات پبلک کر دی ہیں، انہوں نے کہا کہ جب بھی احتساب ہوتا ہوا نظر نہیں آتا تو ہمارا دل دکھتا ہے، احتساب نہ ہونے کی اصل وجہ ماضی میں دیے گئے چوروں اور لٹیروں کو این آر اوز ہیں، جو ہم سے بھی مانگے جا رہے ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان کسی صورت ان چوروں اور لٹیروں کو این آر او نہیں دیں گے۔

مشیر داخلہ و احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ براڈ شیٹ کے معاہدے میں منصورالحق کانام نہیں ، ہمیں اپنے اداروں پربھی اعتماد کرنا چاہیے، براڈشیٹ کو ادائیگی ٹیکس دہندگان کی رقم سے ہوئی، وزیراعظم عمران خان نے مذکورہ معاہدے کی تفصیلات پر سفارشات مانگی ہیں جو جلد براڈ شیٹ معاہدے کی طرح پبلک کر دی جائیں گی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>