تحریک انصاف کے ایم پی اے کا 20 حکومتی ارکان پر مشتمل فارورڈبلاک کا دعویٰ

پنجاب اسمبلی میں 20 ارکان پر مشتمل تحریک انصاف کا ناراض دھڑا سامنے آ گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی میں بھی سرکان پر مشتمل ناراض دھڑا سامنے آگیا ہے، جنہوں نے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کو ہٹانے سمیت وزیراعظم عمران خان سے چار اہم مطالبات کر دیے ہیں۔

پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی کے ناراض ارکان کے نمائندے خواجہ داؤد سلیمانی کا پی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ عثمان بزدار سے کوئی ایک ناراضگی نہیں بلکہ پچھلے ایک سال سے مسئلہ چلا آرہا ہے، میرے پاس حلقہ 285 جبکہ بزدار 286 سے منتخب ہوئے ہیں، بزدار نے اپنے حلقے میں 270 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے دیے جبکہ میرے حلقے میں کچھ نہیں کیا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ناراض رکن کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار نے اپنے حلقے کو تحصیل کا درجہ دے دیا ہے جبکہ میرا حلقہ عرصہ دراز سے سب تحصیل ہی ہے، ہم نے 2018 کے عام انتخابات کے دوران عوام سے وعدہ کیا تھا کہ تونسہ شریف کو ضلع کا درجہ دیا جائے گا لیکن یہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہو سکا اور حلقے کی عوام وعدہ کب پورا ہو گا پوچھتی ہے، جس پر شدید شرمندگی ہوتی ہے۔

ان کا نجی ٹی وی کے میزبان سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے صرف وہ نہیں بلکہ پورا ہاؤس، مشیر اور پارلیمانی سیکریٹریز بھی وزیراعلیٰ سے ناراض ہیں، انہوں نے ناراضگی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ عثمان بزدار کی صبح کوئی بات ہوتی ہے، شام کو کوئی اور بات ہوتی ہے، عثمان بزدار بنیادی طور پر ایک کمزور آدمی ہے اور ایسے کمزور آدمی کو اتنا بڑا صوبہ چلانے کے لئے نہیں دیا جا سکتا۔

خواجہ داؤد سلیمانی کا نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے وزیراعظم عمران خان چار مطالبات ہیں، پہلا مطالبہ یہ ہے کہ ’ سینیٹ انتخابات سے قبل عمران خان ہمیں وقت دیں، ہمارا موقف سنیں اور ہمارے تحفظات پر کمیٹی بنادیں، دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف ان کے امیدوار کو سپورٹ کریں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ہمارا تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ اگر ہمارے مطالبات نہیں مانے گئے تو ہم سینیٹ انتخابات میں ووٹ دینے نہیں جائیں گے اور چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ سینیٹ انتخابات سے قبل ہی تمام 20 ارکان استعفے دیں گے، خواجہ داؤد سلیمانی نے آخری دو مطالبات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آخری دو مطالبات پہلے دو مطالبات نہ ماننے کا ردعمل ہوگا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >