مولانا فضل الرحمان کو لیبیا نے فنڈز دیے، گواہی دینے کے لیے تیارہوں، حافظ حسین احمد

جمیعت علماء اسلام ف سے نکالے گئے سینئر سیاسی رہنما حافظ حسین احمد کا پی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نواز شریف کے فوج اور اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کا معاملہ ہم لوگوں نے جمیعت علماء اسلام کے مجلس شوریٰ کے اجلاس میں بھی اٹھایا تھا جو کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

حافظ حسین احمد کا اپنی گفتگو میں کہنا تھا کہ جب نواز شریف نے کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے میں لندن سے ٹیلی فونک خطاب میں کہا تھا کہ جنرل باجوہ  اور فیض حمید کے خلاف بغاوت کریں تو میڈیا نے جب ہم سے پوچھا کہ یہ آپ کا بیان یہ ہے؟ میں نے تب ہی کہہ دیا تھا کہ یہ ہمارا بیانیہ نہیں ہے یہ نواز شریف کی ذاتی رائے ہے، ہم لوگ تو چاہتے تھے کہ گھر کے گندے کپڑے گھر میں ہی دھل جائیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بیانیہ کے ساتھ نہ کھڑا ہونے کی پاداش میں مولانا فضل الرحمان نے شوکاز نوٹس دینے کے بغیر ہی مجھے پارٹی سے نکال دیا تھا، اور ہم پر یہ الزام لگا دیا گیا کہ ہم فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطوں کی وجہ سے ان کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان سے مخالفت کرنے کے پیسے لیے ہیں، جس پر میں نے انہیں کہا تھا کہ اگر آپ لوگ جھوٹ بول سکتے ہیں تو ہم سچ بھی بول سکتے ہیں۔

سینئر سیاسی رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ اس وقت پشاور میں جمیعت علماء اسلام ف کے دفتر اور مولانا فضل الرحمان کے گھر کے باہر ماربل کی لگی ہوئی تختی پر لکھا ہے کہ "یہ تعمیر کرنل معمر قذاقی یعنی لیبیا کے فنڈ سے ہوئی ہے” انہوں نے کہا کہ وہ شخص آج بھی زندہ ہے جو مولانا فضل الرحمان کے ساتھ لیبیا گیا تھا اور میں یہ نہیں سمجھتا کہ اس کے لئے مزید شواہد کی ضرورت پڑے گی، ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ فنڈ کس نے کھایا ہے ہم نے یہ ضرور کہا تھا کہ فنڈ لیبیا سے آیا ضرور ہے۔

حافظ حسین احمد کا مولانا فضل الرحمان کو لیبیا سے ملنے والے فنڈ کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اب یہ ایجنسیوں، عدالت ، نیب اور الیکشن کمیشن کا کام ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کو لیبیا سے ملنے والے فنڈز کی تحقیقات کرے البتہ اگر انہیں ہماری گواہی کی ضرورت پڑی تو میں گواہی دینے کے لیے تیار ہوں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >