پنجاب میں تحریک عدم اعتماد آنے کی صورت میں کیاعثمان بزدار بچ پائیں گے؟

پنجاب میں تحریک عدم اعتماد آنے کی صورت میں کیاعثمان بزدار بچ پائیں گے؟

سینیٹ انتخابات میں انتہائی اہم جنرل نشست پر حکومت کو شکست دینے کے بعد اپوزیشن اتحاد کا اگلا ہدف پنجاب ہے جس سے متعلق گزشتہ روز چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بھی عندیہ دیا کہ ان کا اگلا نشانہ پنجاب ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں ہمیں پہلے پنجاب کو بچانا ہے۔

بلاول بھٹو سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا پنجاب میں تحریک عدم اعتماد پہلے آئے گی؟ جس کے جواب میں بلاول نے کہا کہ پی ڈی ایم اتفاق رائے سے فیصلے کرتی ہے، ان فیصلوں پر عمل ہوگا۔ ہم فیصلہ کریں گے کب عدم اعتماد ہوگا اور کہاں ہوگا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اب پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد آنے کی صورت میں یہ کہنا ناممکن ہو گیا ہے کہ اپوزیشن حکومت کے خلاف کچھ کر نہیں پائے گی، کیونکہ اس صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کو 10 ووٹ ملنے پر عثمان بزدار کی حکومت چلی جائے گی۔

یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ سینیٹ الیکشن کی صورتحال کے بعد پنجاب اسمبلی میں بھی اپ سیٹ ہو سکتا ہے اور اسی کے قوی امکانات بھی ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 181 ہے جبکہ اس کی اتحادی مسلم لیگ (ق) کے پاس 10 نشستیں ہیں، مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 165 ہے اور پیپلز پارٹی کے پاس 7 نشستیں ہیں۔ لہٰذا اگر اس صوبائی اسمبلی میں کچھ سیٹیں سینیٹ کی طرح ادھر ادھرہوتی ہیں تو موجودہ صوبائی حکومت کا بچنا مشکل ہو جائے گا۔

مگر اس حقیقت کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ عرصہ قبل پنجاب سے مسلم لیگ ن کے کچھ باغی اراکین بھی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملتے رہے ہیں جنہوں نے اپنی پارٹی پالیسی کی خلاف جا کر عثمان بزدار سے ملاقات بھی کی اور اس پر اپنی پارٹی کو دوٹوک جواب بھی دیئے۔

ان باغی اراکین میں میاں جلیل شرقپوری، نشاط ڈاہا، غیاث الدین، اشرف مغل و دیگر شامل ہیں۔

  • عدم اعتماد سارے مجرم اور بھگوڑے ملک کے لیں گے
    ایمانداری کے خلاف اس ملک میں جو اسلام کے نام پر بنایا تھا
    میرے خیال سے اب انتہا ہو چکی ہے عوام کو خود بھر آ جانا چاہے
    ان دشمنوں کے یاروں کے خلاف.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >