اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو ایک اور چیلنج کا سامنا

اعتماد کا ووٹ مل گیا،اب وزیراعظم کو اتحادیوں کے مطالبات کا سامنا

وزیراعظم عمران خان ایک سو اٹھہتر ووٹ کے ساتھ اعتماد کا ووٹ لینے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن اب عمران خان کو ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

نجی ٹی وی چینل کے مطابق ایک طرف دیرینہ دوستی، قابل اعتماد وزیر تو دوسری جانب اہم اتحادیوں کے درمیان مقابلہ شروع ہوگیا، وزیراعظم عمران خان پرسینیٹ الیکشن کے بعد اتحادیوں کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین اور مزید وزارتیں دینے کے مطالبات کئے جانے لگے۔

درپیش چینلج کا بہتر انداز میں مکمل کرنے کیلئے وزیراعظم نے ایک بار پھر اپنے قریبی افراد سے مشاورت کا سلسلہ شروع کردیا، اگر وزیراعظم نے اتحادیوں کی بات تسلیم نہ کرنے کی تو سینیٹ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کی لابنگ میں مشکلات کاسامنا ہوگا۔

دوسری جانب اپوزیشن کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے بھی حکومتی اتحادیوں سے رجوع کرلیا اور آفرز شروع کردی،حکمران جماعت اور اتحادی نمائندوں کے درمیان وزارت پر مسابقت شروع ہوگئی،نومنتخب سینیٹر بیرسٹر علی ظفر فروغ نسیم کی جگہ وزیر قانون بنائے جانے کے خواہش مند ہیں جب کہ فروغ نسیم وزارت قانون کے سوا کسی اور عہدے کو قبول کرنے کو تیار ہی نہیں۔

مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کا قلم دان پھر سے خطرے میں ہے، پہلے انہیں سینیٹ کا ٹکٹ نہیں دیا گیا اور اب مشیر کا عہدہ بھی ہاتھ سے جاسکتا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر علی ظفر کو وزیر پارلیمانی امور بنانے کی پیش کش کی گئی جسے نومنتخب سینیٹر نے ٹھکرادیا۔

دوسری جانب ایم کیو ایم نے ایک بار پھر وزارت کے مطالبے کے بعد ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ مانگ لیا وزیراعظم کے قریبی رفقا کی جانب سے فروغ نسیم کو بطور ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ دے کر سب کو راضی کرنے کی تجویز ملی ہے، فروغ نسیم کو بطور وزیر قانون وزیراعظم کا اعتماد حاصل ہے اور عمران خان ان کی کارکردگی سے مطمئن بھی ہیں۔

ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی نے بڑی پیش کردی ہیں، اگر حکومت سے بات نہ بنی تو ایم کیو ایم نے حکومتی اتحاد چھوڑنے کا اشارہ بھی دے دیا، ایم کیو ایم کی قیادت فیصل سبزواری کو ڈپٹی چئیرمین سینیٹ یا ایم کیو ایم کے کوٹہ کا وزیر بنانے کی خواہاں ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >