ڈی چوک پر تصادم، اینکر عمران خان اور رؤف کلاسرا میں گرما گرم بحث

ڈی چوک پر پی ٹی آئی کارکنوں اور ن لیگی رہنماؤں کے درمیان تصادم۔۔ اینکر عمران خان اور رؤف کلاسرا میں دلچسپ بحث

ڈی چوک پر ہونیوالے واقعے پر اینکر عمران خان نے کہا مریم نواز، شہباز شریف ، حمزہ شہباز سینکڑوں بار اپنے کارکنوں کو عدالت لیکر آئے ہیں وہاں کبھی ایسا ہوا کہ دوسری پارٹی کے لوگ آئیں اور جھگڑا شروع ہوگیا ہو؟ ہمارے گلی محلوں میں ایسا ہوتا ہے کہ ن لیگ والے جلسہ کررہے ہوں تو تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی ایک فاصلے پر ہوجاتی ہے کہ انہیں اپنی سیاسی سرگرمی کرلینے دیں، یہی دوسری جماعت کرتی ہیں کہ ایک دوسرے کو سپیس دیتی ہیں۔

اینکر عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ساتھ ساتھ گلیوں میں شیعہ سنی اکٹھے رہتے ہیں، مختلف سیاسی نظریات کے لوگ اکٹھے رہتے ہیں، ہم لڑتے نہیں ہیں، ایک دوسرے کو سپیس دیتے ہیں۔

صحافی عمران خان نے مزید کہا کہ ڈی چوک پر تحریک انصاف کے کارکن موجود تھے، وہاں سابق وزیراعظم، سابق وزیرداخلہ، سابق وزیراطلاعات، سابق وزیراعظم کا مشیر آجاتے ہیں، ان لوگوں کو اتنا نہیں پتہ کہ ان لوگوں کو کارکنوں کے لیول پر خود کو نہیں لے جانا چاہئے؟

مریم اورنگزیب سے متعلق سوال پر اینکر عمران نے کہا کہ وہاں 70، 80 کیمرے تھے کوئی ایک کیمرہ دکھائیں جس میں مریم نواز پر جسمانی حملہ کیا گیا ہو؟ یہ کارکنوں کے درمیان جاکر انکے لیڈر کی بے عزتی کررہی ہیں کہ وہ چور ہے، لٹیرا ہے، نااہل ہے، نکما ہے۔ وہ جواب میں کہہ رہے ہیں کہ تمہارا لیڈر چور ہے۔ یہ وہاں جاکر انہیں اکسا رہے تھے کہ آؤ، حملہ کرو ہمارے اوپر۔۔ لیڈر کو یہ زیب نہیں دیتا، وہ تو کارکن ہے وہ غصے میں آکر آپ پر جوتا ماردے یا تھپڑماردے گا تو آپکی کیا عزت رہ جائے گی؟

رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ جو آج تحریک انصاف نے کیا ہے، وہی کسی دن تحریک انصاف کے ساتھ ہوگا، میری بات لکھ لیں۔ ن لیگ نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا اور سجادعلی شاہ کیساتھ برا سلوک کیا، تحریک انصاف نے ن لیگی لیڈران کیساتھ اس سے بھی برا سلوک کیا ہے۔ میری بات لکھ لیں کہ عمران خان اور انکی پارٹی کیساتھ بھی یہی کچھ ہوگا۔ آج نہیں تو 10 سال بعد، 5 سال بعد ہوگا۔

رؤف کلاسرا کے تبصرے پر اینکر عمران خان نے کہا کہ آپ اسے سپریم کورٹ پر حملے سے نہ ملائیں، وہ تو انہوں نے پورے پلان سے کیا تھا، یہ تو ن لیگ کے لیڈروں نے خود جاکر تحریک انصاف کے کارکنوں سے پنگالیا۔

جس پر رؤف کلاسرا نے اینکر عمران پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ میں آپکے عمران خان سے متعلق جذبات کی قدر کرتا ہوں۔ تحریک انصاف نے کیوں ٹرینڈ چلایا کہ چلو چلو ڈی چوک چلو؟

جس پر اینکر عمران نے سوال کیا کہ کیا تحریک انصاف کے کارکنوں کو پتہ تھا کہ ن لیگ کے لیڈر وہاں پریس کانفرنس کریں گے؟ میرا سوال بس اتنا ہے کہ جب انہیں پتہ تھا کہ وہاں پی ٹی آئی کارکن ہیں تو یہ وہاں لینے کیا گئے تھے اور کیوں کارکنوں کے لیول پر آکر انہیں اکساتے رہے؟

  • اگر 20 سال پی ٹی آئی کیساتھ ایسا ہوگیا تو بیس سال گلا سڑا اپنا یہ کلب نکال کے دیکھائے گا کہ دیکھوں میں نے تو 20 سال پہلے پیشنگوئی کی تھی۔۔۔۔ لعنت تجھ پہ اور تیری ہیشن

  • رؤف پينڈو ہر وہ بات اُتھاتا ہے جو پی ٹی آئی اور عمران خان سے مُتعلق ہو اسکو ٹی آر پی کا مسئلہ ہے اس پينڈو پرڈکشن کو کوئی ديکھنے کو تيار نہی

  • کلھسڑا نے نونی لیگ کے غنڈا مافیاز کو کھل کر اشارہ دے دیا ھے کہ تم نے بھی یہ کرنا ھے جو کہ تمھارے سابقہ وزیراعظم کے ساتھ ہؤا ھے یہ بیغرت بیشرم کھلسڑا بغض عمران میں اپنی منافقت کے ہائی لیول پر پہنچ چکا ھے جبکہ خاقان عباسی خود سے کارکنوں کے اوپر حملے کر رہا تھا اس کے باوجود کیسی پی ٹی آئی کے سپورٹرز کارکنوں نے خاقان عباسی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ کھلاسڑا کی مت ماری جا چکی ھے اور اس کی منافقت کا کرما عوام جلد دیکھ لے گی۔

  • بہت جلد عوام کھلسرا کی ہائی لیول منافقت کا کرما دیکھے گی کیونکہ کہ میڈیا کے منافقین کی وجہ سے پاکستان کا یہ حال ھے کہ گزشتہ 40 سالوں سے اس ملک پر نواز مافیاز اور زارداری مافیاز کے غنڈوں کا قبضہ تھا

  • لگتا ہے گلا سڑا کی ماں کے خصم۔ کے ساتھ کوئی جبری ۔۔۔ ہوگیا اس گلے سڑے کو اپنی ماں کے یاروں کی ناجائیز سائیڈ لے کر بھونکنے کی عادت ہوگئی ہے احساس کمتری کا مارا ہوا پینڈو جسکی تھوڑی میں زیادہ گھس اوقت سے باہر نکل کر پھٹ رہا ہے یہُ پینڈو اور جاہل


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >