اسد قیصر نے وزیراعظم عمران خان کی صدرپاکستان بننے کی پیشکش کیوں قبول نہ کی؟

صدر مملک عارف علوی کی جگہ کسے صدر بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اسپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر نے نیا انکشاف کردیا، کہا 2018 کا الیکشن جیتنے کے بعد پارٹی قیادت نے مجھے صدر پاکستان بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ جبکہ میں وزیراعلیٰ بننا چاہتا تھا۔

روزنامہ جنگ کے رپورٹر طاہر خلیل کے مطابق اسد قیصر نے بتایا کہ میرا خیال تھا کہ صوبائی اسپیکر کی وجہ سے مجھے انتظامی امور کا بہتر تجربہ حاصل ہو گیا تھا، اسلئے میں وزیر اعلیٰ بن کر اپنے صوبے کی زیادہ خدمت کر سکتا ہوں مگر جب محمود خان کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ ہوا تو عمران خان میرے گھر آئے اور کہا کہ آپ کے پاس تین دن ہیں فیصلہ کر کے بتائیں کہ صدر پاکستان بننا ہے یا نہیں ؟

ایک غیر رسمی گفتگو میں اسد قیصر نے بتایا کہ جب پارٹی قیادت نے جب مجھے صد ر بنانے کا فیصلہ کیا اس وقت ڈاکٹر عارف علوی کو اسپیکر قومی اسمبلی بنانے کا بھی فیصلہ کیا تھا، میں نے قریبی دوستوں سے مشورہ کیا اور پارٹی قیادت کو بتادیا کہ میں صدر مملکت نہیں بنوں گا اور مجھے اسپیکر بنا دیا جائے، جس کے بعد اسپیکر شپ مجھے اور صدر کا عہدہ ڈاکٹر عارف علوی کو دیا گیا۔

اسپیکر اسد قیصر نے 4 نکاتی قومی ایجنڈے پر سیاسی جماعتوں کو اتفاق رائے کی دعوت دی اور کہا کہ معیشت کی بحالی ، توانائی ، واٹرسیکورٹی اور فوڈ سیکورٹی ہمارے بڑے ایشو ز ہیں ان ایشو ز پر سیاسی جماعتوں میں وسیع تر اتفاق رائے کیلئے تیارہوں ، چار نکاتی نیشنل ایجنڈے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے اور سب کو مکمل اتفاق رائے کرنا چاہئے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >