جہانگیرترین گروپ بننے کی اصل وجہ ؟ بلی تھیلے سے باہر آگئی

جہانگیرترین گروپ: بلی تھیلے سے باہر آگئی۔۔ جہانگیرترین گروپ بنانے کی اصل وجہ انکے علاقے میں افسران کے تبادلے ، مرضی کے افسران نہ لگنا، ترقیاتی فنڈز اور نوکریوں کے کوٹے نہ ملنا نکلے؟

کچھ روز قبل جہانگیرترین سے تحریک انصاف کے ایم پی ایز اوار ایم این ایز کی ملاقات ہوئی اور جہانگیرترین گروپ تشکیل دیا گیا۔ اس گروپ نے پنجاب اسمبلی میں سعید اکبرنوانی جبکہ قومی اسمبلی میں راجہ ریاض کو پارلیمانی لیڈر مقرر کیا۔

یہ گروپ کیوں بنا؟ اس گروپ کے بننے کی ایک وجہ تو جہانگیرترین کے کیسز تھے لیکن مزید وجوہات بھی سامنے آگئیں جس کا اعتراف نذیر چوہان، اسحاق خوانی کر بیٹھے۔۔ گروپ بننے کی وجہ جہانگیرترین گروپ کے ایم پی ایز کے علاقوں میں مرضی کے لگائے افسران کی تبدیلی، مرضی کے افسران کو نہ لگانا، ترقیاتی فنڈز اور نوکریوں کے کوٹے نہ ملنا نکلا۔

تحریک انصاف کے ایم پی اے نذیر چوہان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے وزیراعظم نہیں کوئی ڈکٹیٹر ہے جو صبح اٹھتا ہے تقریریں کرتا ہے اور گھر چلا جاتا ہے، ہماری کوئی بات ہی نہیں سنتا، میں نے خان صاحب کی خاطر ن لیگ کو اپنا دشمن بنایا، آج وہ میرے دشمن بن گئے ہیں

نذیر چوہان نے ناراضگی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ میں اپنے حلقے کا ایم پی اے ہوں ، میں اپنے حلقے میں کسی کو درجہ چہارم کی نوکری نہیں دے سکتا جبکہ ہم نے 50 لاکھ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا۔

نذیر چوہان نے مزید کہا کہ مجھے خان صاحب کیساتھ کھڑے ہونے کا یہ صلہ مل رہا ہے کہ میرا ایک بندہ نہیں لگنا، میرے حلقے کا سویپر میری بات نہیں مانے گا، اے سی (اسسٹنٹ کمشنر ) میری بات نہیں مانے گا، میرے حلقے میں کوئی کام نہیں ہوگا۔

نذیر چوہان کا مزید کہنا تھا کہ میرے حلقے کے لوگ میرے سامنے آکر روتے ہیں کہ نذیرچوہان صاحب 15 ہزار روپے کی نوکری دیدو، میں کہاں سے نوکری دوں؟میں نے ڈاکٹرفیصل سلطان سے کہا کہ میرے حلقے کے لوگ بہت غریب ہیں، یہ انکی لسٹ ہے انکے ہیلتھ کارڈ بنادوتو انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ این جی او کرے گی۔

نذیر چوہان کا سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ اگر خان صاحب لاہور سے ہارگئے تو اس میں میرا قصور نہیں تھا، کیا لاہورئیے ماردیں گے سارے؟

اسحاق خاکوانی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جہانگیر ترین گروپ کے ارکان بہت غصے میں ہیں، فوری طور پر پنجاب اسمبلی اور پارٹی کو چھوڑنا چاہتے ہیں۔

اسحاق خاکوانی نے وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ جب باتیں کھلیں تو ہم حیران ہو گئے کہ وفاق سے ہمارے ساتھ سلام دعا اور تعلقات بحال کرنے کے لیے دوستی کا ماحول بنایا جا رہا ہے جبکہ پنجاب میں ہمیں لالچ اور انتظامی اتھارٹی دکھائی جا رہی ہے جب ہمارے ایم پی ایز نہیں مانے تو انکے خلاف انتقامی کاروائی شروع ہوگئی۔

اسحاق خاکوانی نے مزید انکشاف کیا کہ انکے علاقے میں انکے علاقے کے جو افسران لگائے گئے انکے آرڈر کرکے ان پر زورڈالا گیا، انہیں تبدیل کیا گیا۔

اینکر عامر متین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق خاکوانی کی باتوں سے لگتاہےکہ جہانگیر ترین گروپ میں زیادہ تر اراکین کےمسائل ذاتی نوعیت کےہیں کسی کو شہرت چاہیےکسی کوترقیاتی فنڈ چاہیے، کیس میں علی ظفرکی رپورٹ نہیں آئی اور گروپ کانیامطالبہ سامنےآگیا یہ لوگ نظریاتی نہیں ہیں

علاوہ ازیں کچھ ذرائع یہ دعویٰ بھی کررہے ہیں کہ نذیر چوہان کی غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کاروائی چل رہی ہے ، نذیر چوہان اس انکوائری کو رکوانے کیلئے کچھ عرصہ سے حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے جس میں ناکامی پر وہ ناراض تھے۔

  • After effect tablet (no party system then converted into political party.)Weak political system standing for fifty years in name of democracy.In Pakistan never seen political party office then how the home work carried out.

  • List for health cards 🤨 how the hell a MNA or MPA enter names in health card list. This Preferable lists cause a lot loss to Pakistan. Well done Dr Faisal Sultan for not entertain these shits

  • ہر ایک اپنے کرپشن کی بندوق کو جہانگیر ترین کے کندے پہ رکھ چلا رہا ہے اور یہ بات جہانگیر ترین کو بھی معلوم ہے لیکن وہ انہیں اپنے مفاد کے لئے استعمال کر رہا یے۔۔ ہو سکتا ہے کہ غلام سرور بھی اسمیں شامل ہو جائے۔

  • It is difficult to find honest people in Pakistani politics.
    They normally come in politics to gain power, fame & most importantly to earn black money…lot of corrupt money, which they would spend in next elections & would hire big lawyers & would buy Judges like LHC judges to get off scot-free in criminal cases.

    Imran Khan is fighting an uphill battle.

  • جہانگیر ترین کے الگ گروپ بنانے کی اصل وجہ اسے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دینا ہے – پی ٹی آئی نے اپنی اے ٹی ایم مشین سے کروڑوں روپیہ استعمال کیا پھر اسے حکومت بنانے کے لئے اسٹیبلشمنٹ اور خان دونوں نے استعمال کیا اور آخر میں اسے قربانی کا بکرہ بنایا جا رہا تھا شوگر اسکینڈل میں کیونکے اس کی اپنی کوئی سیٹ نہیں تھی اور خسرو بختیار وغیرہ وزیر تھے اور ان کی اپنی سیٹیں تھیں – ترین نے بتا دیا اس کی اپنی بھلے ایک سیٹ بھی نہ ہو اس کا اثر و رسوخ کتنا ہے –


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >