وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کی ملاقات کی اندرونی کہانی

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار جہانگیر ترین کے حامی ارکان کی جانب سے ہم خیال گروپ کی تشکیل کے بعد سیاسی میدان میں سرگرم ہوگئے ہیں اور ان کی ارکان اسمبلی سے رابطوں اور ملاقاتوں میں بھی تیزی آگئی ہے۔ ایوان وزیراعلیٰ کے دروازے ارکان اسمبلی کے لیے کھول دیئے گئے ہیں اب ارکان ہر روز صبح 10 سے 11 بجے کے دوران وزیراعلیٰ سے مل سکیں گے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بھی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے جہانگیر ترین کے ہم خیال گروپ کے متعدد ارکان اسمبلی نے ملاقاتیں کی، ان میں فیصل جبوانہ، عمر تنویر، اسلم بھروانہ، افضل خان، عامر عنایت شاہوانی، صوبائی وزرا نعمان لنگڑیال، اجمل چیمہ اور غضنفر عباس شامل تھے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ کسی کے خلاف انتقامی کاروائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں ہمیشہ ارکان اسمبلی کو ساتھ لیکر چلاہوں، اہم فیصلے حکومتی ارکان اسمبلی کی مشاورت سے ہی کئے جاتے ہیں۔ ہر شہر کو ترقیاتی پیکیج دے رہے ہیں۔

ملاقات کے دوران جہانگیرترین ہم خیال گروپ نے وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت پر اعتماد اور ان کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہر مشکل وقت میں عثمان بزدار کے ساتھ ہیں اور انہی کی قیادت کی ہر فورم پر حمایت کریں گے۔

جب کہ دوسری جانب جہانگیر ترین کے ہم خیال گروپ نے پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں الگ بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت 30 رکنی گروپ اسمبلیوں میں الگ نشستوں پر بیٹھے گا۔ جس کا مقصد ارکان اسمبلی کی حق تلفیوں کیخلاف آواز بلند کرنا ہے۔

یاد رہے کہ جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے اعلان کے بعد پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں بھی اس گروپ کے علیحدہ پارلیمانی لیڈر کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ رہنما تحریک انصاف عون چودھری کے مطابق ایم این اے راجہ ریاض قومی اسمبلی میں جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے پارلیمانی لیڈر ہوں گے۔

جبکہ پنجاب اسمبلی میں ایم پی اے سعید اکبر نوانی جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے اپنے ساتھ ملنے والے ارکان کی نمائندگی کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف وسطی پنجاب کے صدر اعجاز چودھری کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کے ہم خیال گروپ کے خلاف بجٹ کی منظوری تک کوئی ایکشن نہیں ہوگا۔ ان کے بیانات اور سرگرمیاں نوٹ کر رہے ہیں۔ کوئی بھی اقدام وقت آنے پر وزیراعظم کی اجازت سے اٹھائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی اور قیادت کیخلاف بولنے والے پہلے عہدوں اور اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہوں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >