فردوس عاشق اعوان اور مندوخیل کے درمیان نوبت ہاتھا پائی تک کیسے پہنچی؟

میں سوال کروں گی۔۔ نہیں میں سوال کروں گا۔۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور پیپلزپارٹی کے رہنما قادر مندوخیل کے درمیان لفظی جنگ ہاتھا پائی تک کیسے پہنچی کلپس سامنے آگئے۔

معاملہ کچھ یوں ہوا کہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں اینکر پرسن جاوید چوہدری کے شو دونوں رہنما بطور مہمان شریک ہوئے۔پروگرام میں تبصرے اور تجزیے کرتے کرتے میزبان جاوید چوہدری نے کہا کہ مجھے ایک سوال کرنا ہے۔

جس پر فرودس عاشق اعوان نے کہا کہ نہیں میں نے سوال کرنا ہے تو قادر مندوخیل بھی ڈٹ گئے کہ میزبان سوال کرینگے، ساتھ ہی قادرمندوخیل نے کہا فرودس عاشق اعوان بولیں گی تو میں بھی بولوں گا، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی نے کہا کہ بولتے رہیں، پھر دونوں نے ایک دوسرے پر لفظی جنگ اور الزامات کی بوچھاڑ شروع کردی۔

فردوس عاشق نے کرپشن کا الزام لگایا تو قادر مندوخیل بھی پیچھے نہ رہے جوابی وار کردیا، کہا آپ نے بھی بسوں میں کرپشن کی،جب آپ کو وزیراطلاعات سے ہٹایاگیا آپ کی کرپشن کی خبریں سامنے آئیں، آپ نے کمیشن لیا، جس پر فرودس عاشق نے جھٹ سے کہا جھوٹ بول رہے ہیں آپ۔

کرپشن کرپشن کے الزامات کے اس کھیل میں جاوید چوہدری دونوں کو چپ کرواتے رہے لیکن مہمانوں نے ایک نہ سنی اپنی ہی کہتے رہے،جاوید چوہدری نے کہا وقفہ لیتے ہیں اس کے باوجود بھی قادرمندوخیل اور فردوس عاشق اعوان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ جاری رہا،ایک دوسرے کی باتوں کو بکواس کہتے رہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا شرم کرو الزامات ثابت کرو،قادر مندوخیل نے کہا میں تو آئینہ دکھا رہاہوں، فردوس عاشق اعوان بھی ڈٹی رہیں، ہاتھ ڈیسک پر مار مار کر الزامات کی تردید کرتی رہیں اور جب برداشت نہ ہوا تو ڈیسک پر مارنے والا ہاتھ قادر مندوخیل پر اٹھادیا۔

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ فردوس عاشق اپنے ایسے رویے کے باعث خبروں کی زینت بنیں، اس سے قبل پروٹوکول نہ ملنے پر اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ پر بھرے بازار میں غصہ کیا تھا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>