کیا واقعی بجٹ کا 80فیصد حصہ فوج کو ملتا ہے؟

کیا بجٹ کا 80فیصد حصہ واقعی فوج کو ملتا ہے؟ ڈاکٹرفرخ سلیم کا تبصرہ

ملکی بجٹ میں بڑا حصہ دفاع پر خرچ کیا جاتا ہے،زیادہ حصہ تو فوج ہی لے جاتی ہے، یا ہر سال دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوتا ہے،اس طرح کے تبصرے اور تجزیئے ہر طبقے کے لوگوں کی جانب سے سامنے آتے رہتے ہیں،آئندہ مالی سال کے بجٹ سے کچھ روز قبل بھی فوج مخالف عناصر کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا رہا کہ فوج حکومتی بجٹ کا 80 فیصد لے گئی،یہ عناصر ایک عرصے سے تواتر سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ سارا بجٹ فوج کھاجاتی ہے،اور عوام کیلئے کچھ نہیں بچتا، لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ معروف تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق حقیقت اسکے بالکل برعکس ہے۔

معروف تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم نے بجٹ دفاعی بجٹ کے حوالے سے منفی تاثر مسترد کردیئے،انہوں نے بتایا کہ حکومتی بجٹ میں فوج کا 16 فیصد حصہ ہے،بجٹ 2021-22 میں دفاعی خدمات کیلئے 8،487 ارب روپے کے کل بجٹ میں سے1370 ارب روپے مختص کیے گئے،جو محض 16 فیصد ہے، ڈاکٹر فرخ نے بتایا کہ اصل میں دفاع کے لئے 16 فیصد اور دفاع سے متعلقہ اخراجات کیلئے 84 فیصد رکھا گیا،آئندہ مالی سال دفاع سے متعلق اخراجات میں مجموعی اخراجات کا 17.67 فیصد شامل تھا،جو اب کم ہو کر 16 فیصد رہ گیا ہے۔

ڈاکٹر فرخ سلیم نے بجٹ میں اضافے کے حوالے سے وضاحت دی کہ 1970 کی دہائی میں دفاع کے لئے مختص ہماری جی ڈی پی کا 6.50 فیصد تھا۔2001-02 میں دفاع کے لئے مختص جی ڈی پی کا 4.6 فیصد رہا، بجٹ 2021-22 میں 1،370 روپے مختص جی ڈی پی کا 2.8 فیصد ہے،گزشتہ سال ہم نے جی ڈی پی کا 2.86 فیصد دفاع پر خرچ کیا،گزشتہ پچاس سالوں کے دوران جی ڈی پی کی فیصد کے طور پر دفاعی بجٹ میں کمی سامنے آئی، 1970 کی دہائی میں جی ڈی پی کے 6.50 فیصد سے رواں سال 2.8 فیصد رہ گیا، امریکا جی ڈی پی کا 3.4 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے جبکہ بھارت کا یہ حصہ 2.4 فیصد ہے۔

ڈاکٹر فرخ نے مزید بتایا کہ دنیا میں متعدد ایسے ممالک ہیں جو اپنی جی ڈی پی کا زیادہ ترحصہ دفاع پر خرچ کرتے ہیں،مثال کے طور پر عمان دفاع کیلئے جی ڈی پی کا 12 فیصد ، افغانستان 10.6 فیصد ، لبنان 10.5 فیصد ، سعودی عرب 8 فیصد ، کویت 7.1 فیصد ، الجیریا 6.7 فیصد ، عراق 5.8 فیصد ، متحدہ عرب امارات 5.6 فیصد ، آذربائیجان 4 فیصد ، مراکش 5.3 فیصد ، اسرائیل 5.2 فیصد ، اردن 4.9 فیصد ، آرمینیا 4.8 فیصد ، مالی 4.5 فیصد ، قطر 4.4 فیصد ، روس 3.9 فیصد ، امریکا 3.4 فیصد اور جنوبی سوڈان میں 3.4 فیصد خرچ کرتا ہے۔

پاک فوج پورے دفاعی بجٹ کا ایک بڑا حصہ چھین لیتی ہے،فرخ سلیم نے اس جھوٹ کو بھی بے نقاب کردیا، انہوں نے واضح کیا کہ دفاع کے لئے مختص 1،370ارب روپے میں سے پاک فوج کو 594 ارب روپے یا 44 فیصد ملتے ہیں،حقیقت یہ ہے پاک فوج کو بجٹ کے کل حصے کا صرف سات فیصد ہی ملتا ہے۔

ڈاکٹر فرخ سلیم نے بتایا کہ دنیا بھر میں دفاع پر 1.98 کھرب ڈالر خرچ کیا جاتا ہے،کل عالمی دفاعی اخراجات میں امریکا 39 فیصد ، چین 13 فیصد ، بھارت 3.7 فیصد ، روس 3 فیصد اور پاکستان 0.44 فیصد خرچ کرتا ہے،پاکستان کا فی کس دفاعی بجٹ دنیا میں سب سے کم ہے،پاکستان فی کس بنیاد پر 40 ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ اسرائیل فی کس کی بنیاد پر 2،200ڈالر خرچ کرتا ہے، اس کے باجود گلوبل فائر پاور کی فہرست میں پاک فوج دنیا کی 10 ویں طاقتور فوج ہے۔

ڈاکٹر فرخ سلیم نے بتایا کہ اگر ایک فوجی کے اخراجات کی بنیاد پر دیکھا جائے تو پاکستان کی مسلح افواج پر خرچہ نہ ہونے کے برابر ہے،امریکا فی سپاہی پر 392،000 ڈالر، سعودی عرب371،000ڈالر ، بھارت 42،000ڈالر ، ایران23،000ڈالر اور پاکستان صرف 13،400 ڈالر خرچ کرتا ہے۔

دوسری جانب حقیقت ہے کہ تحریک انصاف حکومت نے پہلے سال فوج کے بجٹ میں اضافہ نہیں کیا، دوسرے سال دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ اور بلوچستان ، وزیرستان میں دہشتگردانہ حملوں کی وجہ سے معمولی اضافہ کیا،کئی سال سے فوج کے ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھیں بلکہ گزشتہ برس ٹیکس بڑھنے کی وجہ سے تنخواہ پہلے سے کم ہو چکی ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >