چیف جسٹس کے سندھ حکومت سے متعلق ریمارکس، پی پی رہنماؤں کا سخت ردعمل

سندھ حکومت کے ترجمان اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کے خلاف کچھ نہ کرنے کے الزامات سازش ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے یہ بیان چیف جسٹس گلزاراحمد کے ریمارکس کے تناظر میں دیا۔

حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کہا جاتا ہے کہ حکومت سندھ نے صحت اور سڑک کے بنیادی ڈھانچے میں کچھ نہیں کیا، یہ سب سوچی سمجھی سازش کے تحت کہا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ حکومت سندھ سازش کے تحت کچھ نہیں کرتی، کبھی پی ٹی آئی کے ترجمان اور کبھی کوئی بڑا آدمی ایسی باتیں کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں سندھ حکومت کی کارکردگی منہ بولتا ثبوت ہے سندھ میں موجود صحت کی سہولتوں کے حوالے سے سندھ ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام استفادہ کررہے ہیں۔

مرتضی وہاب نے کہا کہ گمبٹ میں علاج کے لئے کسی سے رقم نہیں لی جاتی ہے اور حکومت سندھ اس ادارے کو 4 ارب روپے دیتی ہے۔ گمبٹ ہسپتال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس ادارہ نے آج تک کچھ نہیں کیا لیکن اس اسپتال میں 433 جگر کے آپریشن کیے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے 135 شہروں سے مریض علاج کے لئے سندھ آتے ہیں اور گذشتہ 8 سالوں میں 13،075 افراد نے مفت علاج کروایا ہے۔

صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے دعویٰ کیا کہ سندھ کی کارکردگی سب سے بہتر ہے۔ ہم نے ملازمین کی 20 فیصد تنخواہ بڑھائی ہے، صوبے میں مزدور کی تنخواہ کم از کم 25 ہزار کردی۔

ناصر شاہ نے کہا کہ وفاقی وزیر کہتے ہیں سندھ پولیس نے کچھ نہیں کیا، یہ کہنا ہمارے شہداء کی توہین ہے۔ پولیس نے سندھ میں بہتر کام کیا۔

دوسری جانب ایک پی پی رہنما چیف جسٹس کے بیان پر چیف جسٹس پر تنقید کرتے ہوئے ہر حد پار کرگیا اور گالیاں دینے پر اتر آیا۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس گلزاراحمد نے کچھ روز قبل ریمارکس دئیے تھے کہ سندھ حکومت کے پاس ایک ہی منصوبہ ہے بد سے بدتر بناؤ، سوائے سندھ کے پورے ملک میں ترقی ہو رہی ہے، سندھ میں حکومت ہے ہی نہیں ۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی صوبے میں 12سال سے اقتدار میں ہے لیکن کراچی سمیت پورے سندھ میں مسائل جوں کے توں ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >