امریکی ٹی وی کی صحافتی بددیانتی دیکھ کر وزیراعظم برہم

وزیراعظم عمران خان نے امریکی ٹی وی ایچ بی او کو انٹرویو دیا جو کہ اتوار کے روز نشر کیا گیا۔ اس انٹرویو کے دوران میزبان جوناتھن سوان نے ملکی و غیر ملکی سیاسی سماجی اور اخلاقی معاملات کو زیر بحث لانے کے لیے کئی سوالات اٹھائے۔

انٹرویو کے نشر ہونے کے بعد وزیراعظم کو مختلف طبقات کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جس پر عمران خان نے ناراضگی کا اظہار کیا کیونکہ ان کے انٹرویو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور پورے جوابات کو نشر نہیں کیا گیا جس کے باعث وہ تاثر نہیں گیا جس تناظر میں باتیں کہی گئیں ہیں بلکہ امریکی ٹی وی نے اسے اپنا ہی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔

نجی خبر رساں ادارے کا دعویٰ ہے کہ انٹرویو کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر وزیراعظم اپنے سٹاف اور بالخصوص ان لوگوں سے خوش نہیں جنہوں نے اس انٹرویو کے انتظامات کیے تھے۔ عمران خان کے اقتدار میں آنے سے پہلے ایسے انٹرویوز کیلئے خواہشمند نشریاتی ادارے متعلقہ فورم سے رجوع کرتے، وزارت خارجہ اپنا کردار ادا کرتی اس کے علاوہ انٹرویو کا دورانیہ سوالوں کی فہرست اور موضوعات کے حوالے سے تفصیلات کا تبادلہ کیا جاتا تھا۔

مگر وزیراعظم عمران خان اس طریقہ کار کو غیر ضروری اور روایتی سمجھ کر اس پر عمل نہیں کرتے اور عموماً ان کے ایسے انٹرویو ون آن ون ہی ہوتے ہیں۔ البتہ اس مقصد کیلئے وزارت خارجہ میں ایک ڈائریکٹر جنرل کی خاص آسامی ہوتی ہے جس پر آج کل معروف ادیب مستنصر حسین تارڑ کے بیٹے سلجوق تارڑ تعینات ہیں۔

لیکن وزیراعظم اس مقصد کے لیے تعینات کسی پروفیشنل کی بجائے اپنے معاونین پر انحصار کرتے ہیں اور انہی معاونین سے وہ مشاورت بھی کرتے نظر آتے ہیں۔

پروگرام میں جس موضوع پر سب سے زیادہ ردعمل دیکھنے میں آیا وہ خواتین اور روبوٹ کے عنوان سے دیا گیا جواب تھا۔ یہاں جوناتھن سوان نے وزیراعظم سے’’ ریپ‘‘ سے متعلق ان کے گزشتہ بیان کے حوالے سے سوال کیا تھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ خواتین کا لباس مردوں کو’’ریپ‘‘ کی ترغیب کا باعث بنتا ہے؟ جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر خواتین کم کپڑے پہنیں گی تو اس کا اثر مردوں پر تو ہو گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ اگر وہ ’’روبوٹ نہ ہوئے تو‘‘ البتہ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ تاہم وزیراعظم کے اس موقف پر خواتین اور لبرل طبقے نے شدید ردعمل دیا اور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کے اس بیان پر کئی لوگ عمران خان کے ماضی کو کرید کر ان پر ذاتی حملے کر رہے ہیں مگر ایسے میں صحافی انصار عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان نے پردے اور فحاشی سے متعلق بات کی تو ’’لبرلز‘‘ کا ایک بیمار طبقہ ان کے ماضی کو کھنگال کر اور ان کی پرانی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کررہا ہے۔

اگر عمران صاحب کل غلط تھے اور آج پردے کے حق اور فحاشی کیخلاف بات کررہے ہیں تو ان کی تعریف کرنی چاہئے اللہ سب کو ہدایت دے۔

  • PM thinks himself expert of every subject and starts giving detailed answers to every question from every subject. There he fumbles and makes mistakes. This ruins his otherwise good interview/speech.

    His knowledge about Islam is greatly flawed because it hasn’t been gained through reading the translation or Tafseer of Holy Quran. Rather, it has come through hearsay, particularly through Sufia Bushra Bibi who herself is not ‘Aalima’ of Quraan and Hadith but a mujaawar of Baba Fareed.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >