آصف علی زرداری کو ناکامی کا سامنا،کسی منتخب رکن اسمبلی کی حمایت نہ ملی

آصف علی زرداری کو ناکامی کا سامنا،کسی منتخب رکن اسمبلی کی حمایت نہ ملی

سابق صدر آصف علی زرداری کا لاہور میں ایک ہفتے کا قیام کسی کام نہ آیا,پنجاب سے منتخب اراکین اسمبلی کی کسی قسم کی حمایت نہ مل سکی,آصف زرداری کے بلاول ہاؤس میں 8 روزہ قیام میں کسی بھی نامور سیاسی رہنما نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے لاہور میں قیام کے دوران متعدد ارکان اسمبلی نے پارٹی شمولیت پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

جبکہ دو سیاستدانوں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب منظور احمد وٹو اور پاکستان تحریک انصاف کے اعجاز دیال نے سابق صدر سے ملاقات کی, ملاقات کے بعد دونوں نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کے دعوے کو مسترد کردیا۔

آصف علی زرداری کی بلاول ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی لاہور میں قیام کے دوران پارٹی کے مخالفین کے خلاف کوئی سیاسی بیان دیا۔

پارٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ آصف علی زرداری لاہور کے دورے میں جنوبی اور وسطی پنجاب میں اپنا الیکٹورل شیئر بڑھانے کےلیے موجود تھے، اگر پی پی پی کو 2023 کے عام انتخابات میں مرکز میں حکومت بنانے کا امکان نظر آتا ہے اور اس کا اصل مخالف پنجاب میں مسلم لیگ ن ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آصف علی زرداری اس تجویز پر عملدرآمد میں مصروف رہے۔

پیپلز پارٹی کے ایک اور رہنما نے بتایا کہ جب لاہور میں ان کی آمد ہوئی تو آصف علی زرداری کو ان کے قریبی ساتھیوں نے بتایا کہ منڈی بہاؤالدین سے ناراض پی ٹی آئی رہنماؤں ندیم افضل چن اور سابق وفاقی وزیر نذر گوندل اور مسلم لیگ ن کے سابق رہنما ذوالفقار کھوسہ ان سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی میں شامل ہوجائیں گے لیکن یہاں بھی ناکامی ہی ملی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے کچھ رنراپ اُمیدواروں کو منتخب کرنے کی خواہشمند ہے جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی قیادت نے اپنے امیدواروں کے ساتھ رابطے شروع کردیئے ہیں۔

آصف علی زرداری نے پارٹی کے جنوبی پنجاب کے صدر اور سابق گورنر مخدوم احمد محمود کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ناراض رہنما جہانگیر خان ترین سمیت دیگر ناراض قانون سازوں کو پیپلز پارٹی میں شامل ہونے پر راضی کریں۔

پی پی پی کے دو بڑے نام قمر زمان کائرہ اور چوہدری منظور نے حال ہی میں بالترتیب پارٹی کے مرکزی پنجاب کے صدر اور سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا تھا۔

آصف علی زرداری نے اپنے دورے کے دوران ان سے رابطہ نہیں کیا جس پر صوبائی سطح پر پریشان کن ماحول پیدا ہوا جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے تاحال ان کا متبادل بھی منتخب نہیں کیا۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے,ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی کی جانب سے واضح کیا گیا کہ آصف علی زرداری پیر کو جاری قومی اسمبلی کے اجلاس میں شامل ہوں گے۔

  • کسی کا دماغ خراب ہے جو چلتی کشتی کو چھوڑ کے ایک تباہ شدہ کشتی پہ سوار ہو جائے؟

    اور شائد کوئی اسکا ساتھ دے بھی دیتا اگر زرداری میں انسانیت اور ایمانداری کی کوئی رمق بھی ہوتی ۔۔

    سب کو حکومت یا کوئی عہدہ یا اسمبلی کی ممبرشپ چاہیے ۔۔زرداری کے پاس سوائے حرام دولت کے دینے کو کچھ نہیں۔ اسلیے تو یہ سندھ میں ‘کامیابی’ حاصل کر لیتا ہے لیکن باقی پاکستان میں کوئی اسے گھاس بھی نہیں ڈالتا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >