مریم نواز کے ہاتھ میں گلاس کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟

مریم نواز کی ہر تصویر میں ہاتھ میں گلاس کیوں ہوتا ہے؟ اب اس کی کیا کہانی ہے؟ کیا یہ گلاس کسی نحوست کے توڑ اور وزیراعظم بننے کیلئے ہے؟

مریم نواز پچھلے دو سال سے جہاں بھی جاتی ہیں، انکے ہاتھ میں ایک گلاس لازمی ہوتا ہے جس پر سوشل میڈیا صارفین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ مریم نواز کے ہاتھ میں یہ گلاس کیوں ہوتا ہے؟ آخر اس گلاس کی کہانی کیا ہے؟

مریم نواز کے ہاتھ میں جو سٹیل کا گلاس ہے عموما یہ گلاس ملک شاپ پر لسی کیلئے ہوتا ہے لیکن مریم نواز لسی نہیں پیتیں بلکہ کافی کی رسیا ہیں لیکن کچھ عرصہ سے یہ گلاس خاص توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور سوشل میڈیا صارفین تواتر سے سوال اٹھارہے ہیں کہ مریم نواز آخر اس گلاس کو اپنے ساتھ کیوں رکھتی ہیں،ا س گلاس میں ایسا کیا ہے۔

تحریک انصاف کے سپورٹرز کا موقف ہے کہ مریم نواز ہر وقت یہ گلاس اس لئے ہاتھ میں پھرتی ہیں کیونکہ مریم نواز وزیراعظم بنناچاہتی ہیں اور یہ گلاس انہیں کسی پیر یا عامل نے دیا ہوگا کہ اسے ہر وقت اپنے ساتھ رکھنا ہے۔

دوسری جانب ن لیگ کے سپورٹرز مریم نواز کے اس گلاس کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں ، ان کا دعویٰ ہے کہ مریم نواز چونکہ کافی کی بہت شوقین ہے اور اس گلاس میں کافی ہوتی ہے۔ سٹین لیس سٹیل کا یہ گلاس گرم چیز کو گرم اور ٹھنڈی چیز کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔

آصف اقبال نامی سوشل میڈیا صارف نے اس پر لکھا کہ ایک بار لکھا تھا نواز شریف نے عمران خان کا مقابلہ کرنا ہے تو عمران خان جیسی سوچ سے ہی مسلح ہو کر آئے۔ خاتون اول کو کس نام سے پکارتے ہیں۔ مریم کے ہاتھوں میں گلاس قدیم ہندوانہ کالے جادو کی علامتیں ہیں لوگ جانتے اور سمجھتے ہیں۔ خاتون اول درود شریف پڑھتیں ہیں یہی معلوم ہوا ہر کسی سے۔

اسی طرح روزینہ خان نے بھی لکھا کہ سب سے بڑا فنکار تو وہ پیر ہے جس نے اس عقل سے پیدل عورت کو کہا ہے کہ، ” یہ ایک فٹ کا سٹیل کا گلاس پکڑنے سے وہ وزیراعظم بن جاۓ گی” ۔

لیکن دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سپورٹرز بضد ہیں کہ اس گلاس میں کافی ہی ہے، تحریک انصاف کے سپورٹرز کبھی مریم نواز کے جوتوں، کبھی کپڑوں کے پیچھے پڑجاتے ہیں اور اب گلاس کے بارے میں قیاس آرائیاں کررہے ہیں۔

زبیر نای سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ نیازی کی سوشل میڈیا اور ترجمانوں نے کیا قسمت پائی. کبھی مریم نواز کے جوتوں کی معلومات کے پیچھے کبھی مریم نواز کے کافی کپ کو گلاس سمجھ بیٹھتے ہیں. قوم کے ٹیکس پر رکھے ترجمان کبھی جوتے تلاش کرتے ہیں. کبھی چاۓ کا کپ.

کچھ عرصہ قبل وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے ایک ٹویٹ کیا تھا کہ یہ اصل میں عمر و عیار کی زنبیل کا گلاس ہے۔ جھوٹ بولنے والی باجی کو یہ بتایا گیا ہے کہ اس کو پکڑ کر رکھیں گی تو ان کی عیاری پکڑی نہیں جائے گی۔

جس پر ن لیگ کے ایک سپورٹر نے کہا تھا کہ تھرماس گلاس ہے جو ٹھنڈا اور گرم دونوں طرح کے مشروبات کے لیے ہوتا ہے نعت خواں حضرات اسے ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں گلہ خراب نہ ہو اس وجہ سے مریم نواز صاحبہ کا بھی شاید گلہ خراب ہو تو اسی لیے اس کو یوز کر رہی ہیں۔

احمد شیخ کا دعویٰ ہے کہ یہ ایئر ٹائٹ گلاس ہے جو کے مریم نواز کا ذاتی ہے۔ اس میں چائے یا کافی ڈال دی جائے تو ڈھکن بند رکھنے پر گرم رہتی ہے۔

مسلم لیگ ن کے حامی سمجھے جانیوالے یوٹیوبر عمران شفقت کا کا دعویٰ ہے کہ یہ گلاس مریم نواز اسلئے ساتھ رکھتی ہیں کیونکہ یہ گلاس بیگم کلثوم نواز کی نشانی ہے اور مریم اس گلاس کو نشانی کے طور پر ساتھ رکھتی ہیں اور اسی میں پانی پیا کرتی تھیں جبکہ مریم نواز کی والدہ اس میں لسی پیا کرتی تھیں

عمران شفقت کا کہنا ہے کہ مریم نواز عمران خان کی طرح ضعیف العتقاد نہیں کہ یہ انگوٹھی پہنوگے تو وزیراعظم بن جاؤ گے، تسبیح بائیں طرف گھماؤ گے تو مشکلیں حل ہوجائیں گی۔ یہ کوئی جادو ٹونے والا گلاس نہیں جسے مریم نواز اپنے ساتھ ہروقت وزیراعظم بننے کیلئے ساتھ رکھتی ہیں۔ مریم نواز کے ساتھ گلاس رکھنے سے سب سے زیادہ ٹنشن اسکے بڑے سیاسی مخالف کو ہوگی۔

خیال رہے کہ کچھ سال قبل وزیراعظم عمران خان کے ہاتھ میں انگوٹھی کو دیکھ کر قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں کہ یہ انگوٹھی وزیراعظم نے کیوں پہنی ہیں؟ جس پر میڈیا نے کھوج لگایا تو معلوم ہوا کہ یہ انگوٹھی وزیراعظم کو انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے دی ہے جو انہیں مشکلات سے نکالنے کیلئے ہے اسی طرح وزیراعظم عمران خان کے ہاتھ میں تسبیح پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ دوسری جانب مریم نواز کے ہاتھ میں گلاس پر میڈیا نے کسی قسم کا سوال نہیں اٹھایا اور نہ ہی مریم نواز نے جواب دینا بہتر سمجھا۔

واضح رہے کہ ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت قدامت پسند ہے، ان میں وہ سیاستدان بھی شامل ہیں جو آکسفورڈ یا امریکی یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔ بے نظیر بھٹو مانسہرہ میں ایک پیر صاحب کے پاس جایا کرتی تھیں جن کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ کسی کو ڈنڈے مارے تو وہ وزیراعظم بن جاتا ہے، نوازشریف بھی ڈنڈے کھانے اس پیر کے پاس جایا کرتے تھے۔

نوازشریف ایک اور پیر علاؤالدین کے پاس بھی جایا کرتے تھے جن سے نوازشریف کا تعارف ڈاکٹر طاہرالقادری نے کرایا تھا اسکے بعد نوازشریف اور طاہرالقادری میں قربتیں بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں۔ معروف صحافی ہارون رشید کا کہنا تھا کہ شہباز شریف پیر صاحب کے پاس گئے تھے اور دس ہزار دے کر تعویذ لیا تھا وزیر اعظم بننے کیلئے۔۔

آصف زرداری بھی جب ایوان صدر میں تھے تو اپنے ساتھ اعجاز شاہ نامی ایک پیر صاحب کو رکھتے تھے، دوران صدارت بھی آصف زرداری نے پیر اعجاز شاہ کے مشوروں پر عمل کیا۔ اور بابا جی کے مشوروں پر آصف زرداری نے پہاڑوں سے دور اور سمندر کے قریب رہائش اختیار کی ۔جب آصف زرداری نے ایوان صدر چھوڑا تو وہ پیر صاحب کہاں گئے کچھ معلوم نہیں

  • یہ پی ڈی ایم کا بھرا ہوا لسی کا گلاس تھا . لسی فضل الرحمن پی گیا اور خالی گلاس مریم نانی کو دے گیا . کیا خیال ہے ؟


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >