گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کا قانون وزیراعظم کی ہدایت پر تیار

گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کا قانون وزیراعظم کی ہدایت پر تیار

جولائی کے پہلے ہفتے میں وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کو گلگت بلتستان کو صوبائی درجہ دینے کے قانون کی تیاری کا کام سونپا تھا۔ جس کے بعد وزیر قانون نے 26 ویں آئینی ترمیمی بل کے مسودے کو تیار کر کے وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت قانون و انصاف نے گلگت بلتستان کو عارضی صوبائی درجہ دینے کے لیے مجوزہ قانون سازی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ جس کے تحت جی بی کی سپریم اپیلٹ کورٹ کو ختم کیا جا سکتا ہے اور یہاں کے الیکشن کمیشن کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ضم کرنے کا امکان ہے۔

بل کے مسودہ میں جی بی کے چیف کورٹ کے لیے ہائی کورٹ کا درجہ تجویز کیا گیا جبکہ اس کا اپیلیٹ فورم یعنی سپریم اپیلٹ کورٹ (ایس اے سی) یا تو ختم ہو سکتا ہے یا آزاد جموں وکشمیر کی سپریم کورٹ کی طرح دوبارہ قائم ہو سکتا ہے۔

جی بی کے الیکشن کمیشن سے متعلق مسودے میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ اسے ای سی پی میں ضم کر دیا جائے گا۔ تاہم جی بی کے چیف الیکشن کمشنر کو ای سی پی کے رکن کے طور پر علاقے کی نمائندگی کے لیے برقرار رکھا جائے گا۔

مجوزہ آئینی ترمیم پر جی بی اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں سمیت اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے۔ بل کا مسودہ آئین پاکستان، بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں بالخصوص کشمیر پر رائے شماری، تقابلی آئینی قوانین اور مقامی قانون سازی کو بغور پڑھنے کے بعد تیار کیا گیا ہے۔

گلگت کے معاملے میں حساسیت کی وجہ سے اسے آئین کے آرٹیکل ایک میں ترمیم کرکے عارضی صوبائی درجہ دیا جاسکتا ہے جو کہ صوبوں اور علاقوں سے متعلق ہے جس سے جی بی کو پارلیمنٹ میں نمائندگی، علاقے میں صوبائی اسمبلی کے قیام جیسی سہولیات ملیں گی۔

آئینی ترمیم علاقوں کے انضمام کے بین الاقوامی طرز عمل کے مطابق ہے اور یہ کسی بھی طرح کشمیر کاز پر منفی اثر نہیں ڈالے گی۔ اگر ایس اے سی تحلیل ہو جاتا ہے تو سپریم کورٹ آف پاکستان کے دائرہ اختیار کو قانون میں مطلوبہ ترامیم کے تحت جی بی تک بڑھایا جا سکتا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >