ن لیگ میں بیانئے کی جنگ شدت اختیار کرگئی، مفاہمتی اور مزاحمتی گروپ آمنے سامنے

نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ ن لیگ میں بیانئے کی جنگ شدت اختیار کرگئی ہے۔مزاحمتی گروپ اور مفاہمتی گروپ کی ایک دوسرے پر تنقید

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن میں بیانئے کی جنگ شدت اختیار کرگئی ہے جس میں مزاحمتی گروپ نے مفاہمتی گروپ پر کارکردگی نہ دکھانے اور پارٹی کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔

مزاحمتی گروپ کا کہنا تھا کہ مفاہمتی گروپ کی پالیسیوں سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اگر انہیں اپنے عہدے اتنے ہی پیارے ہیں تو کارکردگی دکھائیں

جس پر مفاہمتی گروپ کا کہنا ہے کہ جب اختیار نہیں دیں گے اور ٹانگیں کھینچی جائیں گی تو کارکردگی کیسے دکھائیں؟

مفاہمتی گروپ کا مزید کہنا تھا کہ جب پارٹی صدر (شہبازشریف) کی بجائے آزادکشمیر الیکشن مہم کا انچارج کسی اور (مریم نواز) کو بنایا جائے گا تویہی نتیجہ آئے گا۔

ن لیگی ذرائع کے مطابق پارٹی میں اختلافات ختم کرانے کیلئے سینئر ن لیگی رہنما متحرک ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ ن لیگ کے مفاہمتی گروپ کی سربراہی شہبازشریف کررہے ہیں جس میں حمزہ شہباز، خواجہ آصف، احسن اقبال خواجہ سعد رفیق شامل ہیں جبکہ مزاحمتی گروپ کی سربراہی مریم نواز کرتی ہیں، اس گروپ میں نوازشریف، پرویز رشید، جاوید لطیف، شاہد خاقان عباسی ، عطاء تارڑشامل ہیں ۔

مزاحمتی گروپ ہمیشہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے جبکہ مفاہمتی گروپ فوج اور اسٹیبلشمنٹ سے اچھے تعلقات استوار کرنے اور بیان بازی نہ کرنے پر زور دیتا ہے، مفاہمتی گروپ کا موقف ہے کہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید سے پارٹی کو نقصان پہنچتا ہے اور خدشہ ہے کہ کہیں 2023 میں عمران خان دوبارہ برسراقتدار نہ آجائیں۔

جبکہ مزاحمتی گروپ نہ صرف فوج اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتا ہے بلکہ بعض اوقات حد سے گزرجاتا ہے، مزاحمتی گروپ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ انکا مینڈیٹ عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے چوری کیا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >