وزیراعظم آزاد کشمیر سے متعلق خبریں پھیلانے والوں کو شہبازگل نے کھری کھری سنادیں

گزشتہ روز کچھ اخبارات نے خبریں دیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ استخارے اور زائچے کی بنیاد پر ہوا جس پر ڈاکٹر شہباز گل نے ایسی خبریں پھیلانےو الے صحافیوں اور اخبارات کو کھری کھری سنادیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مطابق قیوم نیازی کی بطور وزیراعظم نامزدگی میں دعاوٴں کا اثر زیادہ ہوا، استخارہ اور زائچہ میں ضلع پونچھ کا نام آیا جس پر فیصلہ ہوا، وزیراعظم نے امیدواروں اور پارٹی سیاست کو دیکھتے ہوئے روحانی طریقہ کار کے مطابق فیصلہ کیا

جبکہ وزیراعظم عمران خان کے مخالف سمجھے جانیوالے اخبار جنگ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو بتایا گیا وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئے 13 یا 18 کا ہندسہ ’برکت والا‘ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لفظ ‘ع‘ کے ساتھ شروع ہونے والا نام ہو تو آزاد کشمیر حکومت نہ صرف اپنی مدت پوری کرے گی بلکہ اس سے پی ٹی آئی کشمیر میں بھی مستحکم ہو گی۔

اس پر وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر شہبازگل کا سخت ردعمل دیکھنے میں آیا جس میں اس نے ایسے دعوے اور قیاس آرائیاں کرنیوالوں کو کھری کھری سنائیں۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر کے لئے عمران خان نے درجن سے زائد لوگوں کے انٹرویوز کئے ان کے سامنے کشمیر کے متعلق سوالات رکھے گئے اور ان کا نقطہ نظر مانگا گیا اور عبدالقیوم نیازی صاحب کا نام فائنل کیا گیا۔

ڈاکٹر شہباز گل کا مزید کہنا تھا کہ کچھ بے چارے جن کے پاس خبروں میں آنے کے لئے خان پر تنقید کے علاوہ کوئی ٹاپک نہیں ، وہ نجانے کیا کیا من گھڑت کہانیاں گھڑ کر پھیلا رہے ہیں ۔ان میں سے ایک بڑا طبقہ ہمارے بزرگان دین سے عقیدت رکھنے والے مسلک سے بغض وعناد رکھتا ہے ۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم آزادکشمیر کےانتخاب پر خاتون اول سے منسوب منظم کمپین چلائی گئی جس کا حصہ مرد ہی نہیں خواتین بھی تھیں جو غیرجانبدار، لبرل اور فیمینسٹ ہونے کی دعویداربلکہ علمبردارہیں ۔ عورتوں کے حقوق کی چیمپئن بتاتی ہیں خودکو کسی کو بھی وزیراعظم نامزدکیاجاتاانہوں نے کسی نہ کسی بہانے سے اپنی ڈیوٹی پرموجود ہونا تھا ۔

ڈاکٹر شہباز گل نے انہیں بے شرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بےشرم وہ لوگ ہیں جنکی مالکن اورانکی کنیزیں عاملوں کےجادو ٹونے کے سٹیل کے گلاس اٹھاکرماری ماری پھررہی ہیں ۔ سب کو پتہ ہے لیکن خیالی کہانیاں پھیلائیں گے سامنے نظر آنے والے عاملوں کے گلاسوں کی سچی کہانی بھی شیئر کرتے ہوئے ڈرتے ہیں ان چند عناصر کو شرم کرنا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب زرداری اور شریف فیملی ملک کو لوٹ رہے اس وقت وہ کن نمبروں،کن زائچوں اورکن پہلے اورآخری نام یاروحانی سلسلہ کی ہدایات کے تحت منہ بند کر کے لفافوں کی لائن میں لگے تھے؟

شہبازگل نے مزید کہا کہ ایسی من گھڑت کہانیاں گھڑنے سے پرہیز کریں کیونکہ یہ صحافتی اصولوں کے خلاف اور پاکستان میں بزرگان دین سے عقیدت رکھنے والے بڑے فرقہ کے لئے بھی باعثِ تکلیف ہے بغض کی بیماری تو لا علاج ہو چکی، لیکن کسی کے عقائد کا مذاق اڑا کر دل آزاری نہ کریں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >