کیا چوہدری نثار تحریک انصاف میں شامل ہونے جارہے ہیں؟

نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف نے ن لیگ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کو پنجاب کی تحریک انصاف صدارت کی پیش کش کی ہے۔

نجی ٹی وی کے صحافی نعیم اشرف بٹ کے مطابق چوہدری نثار سے تحریک انصاف کی 2 شخصیات نے ملاقات کی جسے خفیہ رکھا گیا ہے، ان شخصیات نے چوہدری نثار کو پنجاب میں پارٹی صدر کی آفر کی جس پر چوہدری نثار نے اپنے دوستوں سے مشورے کیلئے وقت مانگا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر تحریک انصاف اور چوہدری نثار میں معاملات طے ہوگئے تو اگلے انتخابات کے بعد چوہدری نثارعلی خان کو پنجاب میں بڑا انتظامی عہدہ بھی دیا جاسکتا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں نے چوہدری نثار کی شمولیت کی مخالفت کی ہے ۔جن کا موقف ہے کہ چوہدری نثار کے تحریک انصاف میں شامل ہونے سے پارٹی میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہے۔

نجی چینل نے شمولیت کی مخالفت کرنیوالی شخصیات کا نام نہیں لیا لیکن تحریک انصاف کے وفاقی وزیر غلام سرور خان چوہدری نثار کی شمولیت کے سب سے بڑے مخالف ہیں، غلام سرور خان چوہدری نثار کو راولپنڈی کی 2 سیٹوں سے ہراچکے ہیں اور متعدد بار چوہدری نثار کی تحریک انصاف میں شمولیت کی مخالفت کرچکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق عمران خان خود چوہدری نثار کی تحریک انصاف میں شمولیت کے خواہشمند ہیں، خیال رہے کہ چوہدری نثار اور وزیراعظم عمران خان ماضی میں دوست بھی رہ چکے ہیں اور ایچی سن میں کلاس فیلو بھی رہے ہیں۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ ن کے کچھ رہنماء پارٹی کے فوج مخالف بیانیے کے باعث دوسری جماعت میں شمولیت پر غور کررہے ہیں اور ان میں زیادہ تر کا رجحان تحریک انصاف کی طرف ہے۔تحریک انصاف ان رہنماؤں کی شمولیت الیکشن سے ایک سال قبل چاہتی ہے تاکہ عین الیکشن کے وقت پارٹی میں اختلافات جنم نہ لیں

چوہدری نثارعلی خان نے نوازشریف او رمریم نواز سے اختلافات پر 3 سال قبل مسلم لیگ ن کو الوداع کہہ دیا تھا اور آزاد حیثیت سے قومی اسمبلی کی 2 اور صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ پر الیکشن لڑا تھا لیکن صرف پنجاب اسمبلی کی سیٹ جیت سکے اور قومی اسمبلی کی دونوں سیٹیں غلام سرور خان سے ہار گئے۔

اگرچہ چوہدری نثار 2018 کے عام انتخابات ميں آزاد حیثیت سے کامياب ہوئے تھے مگر حلف نہيں اُٹھايا تھا۔بعدازاں چوہدری نثار نے 3 سال بعد حلف اٹھالیا۔

خیال رہے کہ چودھری نثار نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی میں اس لیے نہیں گیا تھا کیونکہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) میں سیاسی مخالفت دشمنی کی شکل اختیار کر چکی تھی۔

چودھری نثار نے مزید کہا تھا کہ گالم گلوچ اس طرح ہوتی تھی جس طرح دو دشمنوں کے درمیان ہوتی ہے۔ اب دیکھیں گے کہ حالات کیا ہیں، عمران خان مجھ پر بہت مہربان ہیں، اس وقت بھی عزت دی جب وہ کرکٹر تھے وہ کہا کرتے تھے کہ میرے اسکول کے ایک ہی دوست ہیں اور وہ نثار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے حوالے سے میرے جذبات اور احساسات اچھے تھے اور اچھے ہیں۔ سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ میری کوشش ہے کہ کسی ایسی جماعت میں نہ جاؤں جو حکومت میں ہو کیونکہ اگر اقتدار میرا مقصد ہوتا تو میں وزارت داخلہ نہ چھوڑتا، بطور اسمبلی رکن حلف اٹھاتا پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرتا اور کسی اچھے عہدے پر ہوتا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >