ووٹ کو عزت دو یا کام کو ووٹ دو،لیگی قیادت 2 بیانیوں میں تقسیم ہوکر رہ گئی

ووٹ کو عزت دو یا کام کو ووٹ دو،لیگی قیادت 2 بیانیوں میں تقسیم ہوکر رہ گئی

پاکستان مسلم لیگ نواز قیادت کے فقدان کا شکار ہونےکے بعد 2 مختلف بیانیوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پارٹی کے بانی میاں نوازشریف کے ملک سے باہر جانے کے بعد پارٹی پر قبضے کیلئے نواز شریف کے بھائی صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف اور نواز شریف کی بیٹی نائب صدر مسلم لیگ ن کے درمیان واضح اختلافات سامنے آئے ہیں۔

یہ اختلافات کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات کے دوران مزید واضح ہوگئے جب شہباز شریف اور مریم نواز الگ الگ بیانیہ پیش کرتے دکھائی دیئے، شہباز شریف چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ کا بیانیہ کام کو عزت دو پر مبنی ہونا چاہیے جبکہ مریم نواز شریف اپنے والد کی طرح ووٹ کو عزت دو کے بیانیے پر قائم ہیں۔

پارٹی کی سینئر قیادت کے درمیان اس رسہ کشی نے پارٹی رہنماؤں کو بھی شدید مشکل میں ڈال دیا ہے، مزاحمت بمقابلہ مفاہمت کی سیاست کے اس دنگل میں پارٹی رہنماؤں نے بھی اپنی اپنی سائیڈ چن لی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شہباز شریف کے بیانیے کی حمایت میں خواجہ آصف،خواجہ سعد رفیق، عطا تارڑ اور ملک احمد خان پیش پیش ہیں جبکہ شاہد خاقان عباسی، خرم دستگیر، مریم اورنگزیب، طارق فضل چوہدری، عظمیٰ بخاری اور طلال چوہدری مریم نواز کیمپ کا حصہ ہیں۔

پارٹی کے چند رہنما ایسے بھی ہیں جو اس کشمکش میں ابھی تب درمیان میں لٹکے ہوئے ہیں جن میں رانا ثنا اللہ اور دیگر اراکین اسمبلیوں کے نام شامل ہیں، پارٹی کے سینئر رہنما پرویز رشید نے پارٹی معاملات سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ کی انتخابی مہم کے دورن شہباز شریف نے مریم نواز کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے رہنماؤں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مہم کی تمام تر ذمہ داری ملک احمد خان کو سونپ دی ہے اسی لیے انتخابی مہم میں ووٹ کو عزت دو کے بجائے کام کو ووٹ دو کا نعرے زیادہ زور و شور سے لگایا جارہا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >