اولیور کرامویل کی لاش کو پھانسی کے پیچھے اصل حقیقت

اولیور کرامویل

ہمارے دانشوروں اور نام نہاد جمہوریت پسندوں کا دعویٰ ہے کہ  سابق برطانوی ڈکٹیٹر اولیور کرامویل کی لاش کو برطانوی عوام نے قبر  سے نکال کر پھانسی دی۔۔ وہ یہ جواز پرویز مشرف کی لاش کو ڈی چوک پر تین دن تک لٹکانے کے فیصلے کے دفاع میں دے رہے ہیں۔۔

جو یہ نام نہاد جمہوریت پسند دعویٰ کررہے ہیں حقیقت اس سے مختلف ہے۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ اولیور کرامویل کون تھا؟

اولیور کرامویل 1599 میں پیدا ہوا۔ وہ اس نے انگریزوں کی خانہ جنگی میں پارلیمانی فوجوں کوفتح سے ہم کنار کیا، برطانیہ میں پارلیمانی جمہوریت کو نظام حکومت کے طور پررائج کرنے کا اصل ذمہ دار ہے۔ 1628ء میں وہ رکن منتخب  پارلیمنٹ ہوا۔ وہ تھوڑا ہی عرصہ اس عہدے پررہا، کیونکہ اگلے ہی سال بادشاہ چارلس اول نے پارلیمنٹ تحلیل کرکے تن تنہا ملک پر حکومت کرنے کافیصلہ کیا۔ 1640ء میں ہی، جب بادشاہ کو سکاٹ لینڈ کے خلاف جنگ کرنے کی خاطر مالی وسائل کی ضرورت محسوس ہوئی، تو اس نے ایک نئی قانون ساز اسمبلی تشکیل دی۔ کرامویل  بھی اس نئی قانون ساز اسمبلی کا رکن بنا۔

اس اسمبلی نے بادشاہ کی  مطلق العنانیت کے خلاف ضمانت طلب کی۔ چارلس اول نے مجلس کی سرپرستی قبول کرنے سے انکار کردیا۔ 1642ء میں بادشاہ کے حامیوں اورپارلیمانی فوجوں کے بیچ جنگ چھڑ گئی ۔۔ ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوگئی تو کرامویل نے پارلیمانی فوجوں کا ساتھ دیا۔

اس جنگ میں کرامویل نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور  خود کو انتہائی کامیاب سپہ سالار تسلیم کرلیا اور بادشاہ چارلس اول کو قید کرلیا ۔۔  1949 میں بادشاہ مارا گیا اور انگلستان جمہوریت ملک بن گیا جسے دولت مشترکہ کے نام سے پکارا جانے لگا۔

ان پانچ برسوں میں کرامویل نے برطانیہ کو ایک عمدہ طرز حکومت قائم کی ۔ اس نے متعدد سخت قوانین کو بہتر بنایا اور تعلیم کے فروغ کے لیے بڑے بڑے اقدامات کیے۔ بڑی بڑی معاشی اور سماجی اصلاحات کیں۔ کرامویل مذہبی رواداری کاحامی تھا۔ اس نے یہودیوں کو انگلستان میں آبادی اوراپنی مذہبی رسومات کی آزادانہ ادائیگی کی اجازت دیکرامویل نے ایک کامیاب خارجہ حکمت عملی بھی وضع کی لیکن وہ ملیریا میں مبتلا ہوکر 1658ء میں لندن میں فوت ہوگیا ۔

جس کے بعد اسکا بیٹا  رچرڈ کرامویل برسر اقتدار آیا لیکن وہ زیادہ عرصہ حکومت نہ کرسکا کیونکہ اسکے بادشاہ چارلس دوئم نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ جمالیا  اور اولیور کرامویل کے حامیوں کو چن چن کر قتل کیا۔۔ اور اولیورکرامویل سے بدلہ لینے کیلئے اسکی لاش کو قبل سے نکالا اور دوبارہ پھانسی دیدی اور اسکا سر کاٹ کر ایک گڑھے میں پھینک دیا۔ بعد میں یہ سر مختلف لوگوں کے پاس رہا اور بالآخر 1960 میں کہیں جا کر اسے دوبارہ دفنایا گیا۔

ہمارے دانشوروں کا المیہ یہ ہے کہ یہ یا تو پڑھتے نہیں ہیں یا جان بوجھ کر اپنے فائدے کیلئے صحافتی بددیانتی کرتے ہیں۔ اگر کرامویل جمہوریت کا دشمن تھا تو اسے قبر سے نکال کر پھانسی دینےو الا بادشاہ کونسا جمہوریت پسند تھا۔ اولیور کرامویل کی قبر سے نکال کر پھانسی بادشاہ چارلس دوم کی اپنی انا کی تسکین تھی۔ جس نے اولیورکرامویل کو پھانسی دلوانے کیلئے ساتھ ساتھ اسکے حامیوں کو چن چن کر قتل کروایا۔یہ بات غلط ہےکہ اولیور کرامویل پر عوام کو شدید غم وغصہ تھا اور اسی غم وغصے کی بنیاد پر عوام نے اسے قبر سے نکال کر دوبارہ پھانسی دیدی۔ دراصل اولیور کرامویل پروٹسٹنٹ فرقے کا حامی تھا جبکہ اسکے مخالفین رومن کیتھولک تھے۔ یہ لڑائی ایک طرف تو پروٹسٹنٹ اور رومن کیتھولک کی تھی  اور بادشاہ کی انا کی تھی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >