رانا ثنا اللہ کی ضمانت نے اداروں کی کارکردگی کی قلعی کھول دی

لیجئے جی چھ ماہ کی قید بھگتنے کے بعد بالاخر رانا ثناء اللہ کو لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر رہائی نصیب ہوئی اور وہ کیمپ جیل سے رہا ہوئے تو کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ان کے استقبال کو جمع تھی ۔ گلاب کی پتیاں نچھاور کر کے رانا جی کو گھر لے جایا گیا ۔ رہائی کے بعد رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس میں اس مقدمے کو بے بنیاد اور بوگس قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس سے اس واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو اللہ کا قہر مجھ پر نازل ہو اور اگر سچا ہوں تو الزام لگانے والوں پر قہر نازل ہو ۔

اس پریس کانفرنس سے قبل جناب وزیر موصوف شہر یار آفریدی دھواں دھار خطاب میں فرما چکے تھے کہ ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھے ہیں ۔اس کے بعد اینٹی نارکوٹکس فورس کی لیگل ٹیم نے بھی باقاعدہ ایک پریس کانفرنس کھڑکا ڈالی اور میڈیا کو بتایا کہ ابھی ضمانت ہوئی یے رہائی نہیں ۔ ابھی ٹرائل جاری ہے ۔ اس سارے قضئیے میں ایک ویڈیو کا چرچا رہا جس کے متعلق شہر یار آفریدی کا موقف تھا کہ وقت آنے پر ویڈیو پیش کی جائے گی ۔ رانا کی ضمانت کے بعد جب اس ویڈیو پر سوال اٹھے تو شہر یار آفریدی نے فرمایا ویڈیو نہیں فوٹیج کا کہا تھا ۔ جس پر وہ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر خبروں کا موضوع بن گئے۔

اس سارے کیس اور اب ضمانت کے بعد حکومتی اداروں ، وزراء کے بلند بانگ دعووں اور اے این ایف کی محکمانہ کارکردگی پر بڑے چھبتے ہوئے سوال اٹھنے لگے ہیں ۔ کیا یہ روائتی انداز میں محض ایک سیاسی مقدمہ تھا ۔ مقصود اپنے حریف کی زباں بندی ؟ اگر تو ایسا ہی تھا تو جس کسی نے یہ ڈرامہ تخلیق کیا بڑے ہی بھونڈے انداز میں اس کا منظر نامہ بچھایا گیا . اور اگر اس میں کچھ صداقت ہے تو پھر استغاثہ اپنے کیس میں جان کیوں پیدا نہ کر پایا ۔ عدالت عالیہ کے معزز جج نے جو قانونی سوال اٹھائے ہیں وہ تازیانہ بن کر ریاستی اداروں پر برس رہے ہیں . ٹرائل کورٹ نے رانا ثناء اللہ کے شریک ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لی تھیں جنہیں حکومت نے چیلنج کیوں نہ کیا ؟ برآمد ہونے والی ہیروئن کی مقدار 25 کلو گرام سے 15 کلو گرام کیسے ہوئئ ؟ چھ ماہ تک اس ادارے کی لیگل ٹیم کیا کرتی رہی ؟

وزیر اعظم پاکستان کو سوچنا ہو گا اس کیس نے نہ صرف حکومت بلکہ ایک بڑے ریاستی ادارے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا یے ۔ احتساب کا نعرہ لگا کر مسند اقتدار پر فائز ہونے والوں کو خود اب اس بات کا حساب دینا ہو گا کہ اپ کا وہ نعرہ کیا ہوا . اب عذر لنگ پیش کر کے ، عدالت کو مطعون کرنے سے ، آئیں بائیں شائیں کرنے سے طوفان ٹلا نہیں کرتے ۔ سچ تو یہ ہے کہ رانا ثناء اللہ کی ضمانت نے حکومت کی ساکھ کو بڑا نقصان پہنچایا ہے ۔ اب دیکھئے مشیران کرام کہاں کی کوڑی لاتے ہیں


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>