بی بی شہید کے کردار کی عظمت کا ثبوت لئے ایک سچا واقعہ

وہ وقت جب وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو کو ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف کی نازیبا ویڈیو پیش کی گئی

وہ وقت جب وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو کو ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف کی نازیبا ویڈیو پیش کی گئی تو اس پر ان کا ردعمل کیا تھا۔

محترمہ کے کردار کی عظمت کا ثبوت لئے ایک سچا واقعہ

اقتدار کی غلام گردشوں میں کیا کھیل کھیلے جاتے ہیں ۔ سازشوں کے جال کس طرح بنے جاتے ہیں ۔ سیاسی حریفوں کی کردار کشی اور انتقام کا نشانہ بنانے کی خاطر ان کی نجی زندگی میں کس انداز میں دخل اندازی کی جاتی ہے۔ فون کالز ٹیپ کئے جانے سے لے کر دوسروں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لمحات خلوت کی خفیہ ویڈیوز تک ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مناسب وقت کے لئے سنبھال لی جاتی ہیں۔ جنہیں وقت آنے پر سیاسی مقاصد کی خاطر بلیک میلنگ ، زبان بندی ، سرکوبی اور وفاداریاں تبدیل کرنے کی خاطر استعمال کیا جاتا یے ۔ یہ ہماری گندی سیاست کا چلن یے جو اج بھی جاری و ساری یے ۔

کہتے ہیں آپ کے کردار کا خاصہ وہ وصف ہوتا یے جس کا اعتراف اپ کا بدترین حریف بھی کھلے لفظوں میں کرنے پر مجبور ہو جائے ۔ اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے بارے میں یہ انکشاف سابق صدر پرویز مشرف کے سٹاف کے ایک ذمہ دار افسر نے کیا ۔

محترمہ بینظیر بھٹو دوسری مرتبہ مسند اقتدار پہ فائز تھیں۔ ان کی حریف سیاسی جماعت ن لیگ کے یوں تو مرکزی قائدین سمیت متعدد رہنما نہ صرف عوامی جلسوں میں بلکہ ایوان کے اندر بھی ان پر پھبتیاں کسنے اور ذاتیات کی سطح پر اترنے سے نہ چوکتے تھے. لیکن ایک لیڈر ایسا بھی تھا جس کی زبان اس قدر دراز تھی جو محترمہ بینظیر بھٹو کی ذات پر رکیک حملے کرتا انتہائ لغو ، بیہودہ جملے کستا اور ہر ہر موقع پر ایک خاتون کے بارے میں جو ایک بڑے اسلامی ملک کی وزارت عظمی کے عہدہ جلیلہ پر فائز تھی بازاری زبان استعمال کر کے اپنے قائدین سے داد و تحسین پاتا ۔

پرائم منسٹر ہاؤس میں مدتوں سے تعینات خدمت گار عینی شاہد ہیں کہ وزیر اعظم صاحبہ معمول کے مطابق امور مملکت نبٹانے میں مشغول تھیں۔ اتنے میں اس وقت کے آئی بی چیف ملاقات کے لئے پہنچے۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو کے چلانے کی آواز سنائ دینے لگی جو آئی بی کے سربراہ پر بری طرح برس رہی تھیں ۔ عملے کا کہنا ہے ہم نے اج تک وزیر اعظم صاحبہ کو اس قدر جلال میں نہیں دیکھا تھا ۔ ہوا یہ کہ انٹیلی جینس بیورو کے سربراہ کے ہتھے اس سیاسی رہنما کی ایک انتہائی قابل اعتراض ویڈیو چڑھی جو دن رات وزیر اعظم کے درپے تھا اور آئی بی چیف کو گمان تھا کہ اس ویڈیو کو اس سیاستدان کے خلاف ترپ کے پتے کی مانند استعمال کر کے اسے نکیل ڈالی جا سکتی ہے۔ اور بلاشبہ یہ ویڈیو ایسی ہی تھی کہ اگر وائرل ہو جاتی تو وہ سیاستدان باقی زندگی منہ چھپاتا پھرتا ۔ شاہ سے زیادہ شاہوں کے وفاداروں کی روایت نبھاتے ہوئے آئ بی چیف تو دوڑے چلے آئے تھے کہ محترمہ اس کارنامے پر خوش ہو کر خلعت فاخرہ سے نوازیں گی لیکن یہ کیا اسے تو لینے کے دینے پڑ گئے۔

"مسٹر آپ کو جرات کیسے ہوئی کہ آپ یہ گند اٹھا کر میرے پاس لے آئے ۔ اپ نے یہ سوچا بھی کیسے کہ میں سیاسی انتقام میں اس حد تک جا سکتی ہوں ۔ٹھیک ہے مذکورہ سیاستدان نے میری کردار کشی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن میں اس کی طرح خود کو انسانیت کے درجےسے گرا نہیں سکتی ۔ نہ ہی یہ خاندانی لوگوں کا وطیرہ ہے ۔۔اٹھائیے اس گند کو اور لے جا کر ابھی اسے ضائع کر دیجئے ”

وزیر اعظم ہاؤس میں سکتہ طاری تھا۔ انسان تو انسان درودیوار بھی اس عورت کی برداشت اور سوچ کو سلام پیش کر رہے تھے ۔ وہی عورت جس کے سیاسی حریفوں نے اس کے خلاف کردار کشی کا ہر ہر حربہ استعمال کیا ۔ حیا سوز اشتہارات قومی اخبارات میں چھپوا کر بھی دل نہ بھرا تو جہازوں کے ذریعے پورے ملک میں پرچیاں پھینکوائیں۔ اس کے خلاف ایسے ایسے الفاظ و القابات استعمال کئے کہ انسانیت اور تہذیب بھی شرما جائے۔ اج موقع تھا اس خاتون کے پاس جس کے پاس اب اختیار بھی تھا اور اقتدار بھی وہ چاہتی تو اگلے پچھلے سب حساب بے باک کر سکتی تھی ۔ لیکن اس کے کردار کی خوبصورتی ہر بد صورتی پر غالب آ گئئ اس نے وہی کیا جو خاندانی لوگوں کا خاصہ ہوتا ہے ۔

وہ لمحہ گواہ ہے کہ ایک خاتون سیاستدان نے اخلاقی اعتبار سے نام نہاد مرد رہنماوں کو شکست فاش دے ڈالی

  • لعل شہباز قلندر کی سرزمین کی بیٹی بینظیر اتنی معصوم اور سادہ تھی کہ لندن کے جیولر سے ایک لاکھ سات ہزار پونڈز کا ہیرے کا ہار خریدا، دس ہزار پونڈ کی ادائیگی بذریعہ کریڈٹ کارڈ کی، باقی کی ستانوے ہزار پونڈ کی ادائیگی بذریعہ چیک کردی۔

    یہ چیک بومر فنانس نامی آفشور کمپنی کا تھا جسے بینظیر نے اپنے دور حکومت میں ایس جی ایس کوٹیکنا سکینڈل میں بارہ ملین ڈالرز کے کک بیکس دلوائے تھے۔

    یہ کمپنی بینظیر کی ہی تھی۔

    بینظیر نے اپنا ہیرے کا یہ ہار سوئس بنک کے لاکر میں رکھوایا تو وہاں کے قانون کے مطابق انہوں نے خریداری کی رسید مانگی۔ بینظیر نے رسید اور چیک کی کاپی جمع کروا دی۔

    بعد میں جب سویئس مقدمہ بنا تو وہاں کی عدالت نے یہ تمام ریکارڈ نکلوا لیا اور سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا اور بینظیر کی ملی بھگت سے کرپشن ثابت کرکے بینظیر کو سوئس کی عدالت میں سزا سنا دی گئی-

    آج اسی معصوم عورت کی برسی پر یہ جاہل قوم دسمبر کی اداس شاموں میں غمگین نظر آرہی ہے!

  • اپنے شوہر کے ساتھ مل کر سرے محل اور کرپشن ، اپنی حکومت میں بھائی کا قتل ہونا بے نظیر کے کردار پر لگے بڑے سوال ہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >