زچگی کے آپریشن میں خفیہ کیمرے اور ہمارے معاشرے کی اخلاقی گراوٹ

کیا ہم انسان کہلانے کے لائق ہیں؟

پہلے شور مچا کہ آپ کو کبھی کسی ہوٹل یا گیسٹ ہاوس میں مقیم ہونا پڑے تو احتیاط کیجئے کیونکہ انتظامیہ نے خفیہ کیمرے نصب کر رکھے ہیں ۔ جو آپ کے لمحات خلوت کی ویڈیو بنا کر آپ کو بلیک میل کر سکتے ہیں ۔
پھر خبریں عام ہوئیں کہ گارمنٹس کی دوکانوں سے ملحقہ ٹرائی رومز میں بھی کیمرے لگے ہوتے ہیں جہاں خواتین نئے ملبوسات کو خریداری سے قبل پہن کر ان کا سائز پرکھتی ہیں کئی شکاتیں عام ہوئیں کہ خواتین کو بلیک میل کیا گیا ۔
پھر ان ہوس پرستوں اور ننگ انسانیت حیوانوں نے شادی ہالز کے برائیڈل رومز میں خفیہ کیمرے آویزاں کر کے کتنے گھر پامال کئے ، کچھ عرصہ قبل گرلز کالجز اور یونیورسٹیوں کے حوالے سے رپورٹ عام ہوئی کہ واش رومز میں خفیہ کیمرے لگائے گئے ہیں

شروع شروع میں جب انٹرنیٹ عام نہیں تھے تو شہر شہر نیٹ کیفے کھلتے گئے جو آہستہ آہستہ ڈیٹنگ پوائنٹ بنتے گئے پھر پاکستان کی تاریخ کا ایک ہوشربا سکینڈل منظر عام پہ آیا جس میں عزت دار گھرانوں کے نو عمر لڑکے اور لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز عام کر دی گئیں یہ اسکینڈل اتنا بھیانک تھا کہ کئ لڑکیوں نے بدنامی کے ڈر سے خود کشیاں کر لیں۔
پچھلے مہینے ایک معروف سینما ھاوس کے سی سی ٹی کیمروں سے بنی ویڈیوز نے بھی نیٹ کیفے سکینڈل کی یاد تازہ کر دی ۔ جس میں فلم دیکھنے کے بہانے ڈیٹ پہ آئے جوڑوں کے انتہائ شرمناک مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تو ملک میں ایک طوفان بپا ہو گیا ۔

یہ سارے واقعات ہمارے اخلاقی زوال ، ذھنی افلاس اور سفلانہ پن کا ثبوت ہیں۔ ہم ذلت اور پستی کے اس درجے پہ فائز ہیں کہ انسانیت بھی منہ چھپاتی پھرتی یے۔ آپ نے لوگوں کی ذاتی زندگی میں ہر جگہ دخل اندازی کر کے ، لوگوں کی لاعلمی ، مجبوری سے فائدہ اٹھا کر لمحات خلوت کی خفیہ ریکارڈنگ کر کے کہیں اپنے ایمان کو چند ٹکوں کے عوض گروی رکھا تو کہیں نرغے میں آئ مجبور خواتین کو بلیک میل کر کے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔

تصور کیجئے کوئ خاتون ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں زندگی اور موت کی کشمکش میں اسٹریچر پر بیہوش پڑی یے ۔ جہاں اسے اپنے تن بدن کی کوئ ہوش ہے نہ خبر ۔
رکئے ذرا رقص شیطان ابھی تھما نہیں، بے ضمیروں ، بے حسوں کا ٹولہ اس حالت میں بھی باز نہیں آتا ۔ احترام آدمیت تو دور ان کے دلوں میں تو خوف خدا بھی نہیں

پچھلے ہفتے شیخوپورہ کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں دوران آپریشن خواتین کی ویڈیوز بنائے جانے کے انکشاف نے چونکا دیا ۔ ہسپتال کے مالک نے کچھ خواتین مریضوں کی اسکے ہسپتال میں دوران آپریشن بنائ جانے والی ویڈیوز بنائے جانے کے خلاف تھانے میں مقدمہ درج کرایا۔ پولیس نے ابتدائ تفتیش کے بعد عملے کو گرفتار کیا تو ایک نرس نے جو اعتراف کیا وہ پاکستانیت ، انسانیت اور مسلمانیت کے منہ پر طمانچہ ہے
اس نے پولیس کو اپنے بیان میں کہا کہ یہ ویڈیوز اس نے اپنے بوائے فرینڈ کے کہنے پر بنائ تھیں۔ اس کے پاس میری نازیبا تصاویر تھیں اور اس نے دھمکی دی کہ اگر تم نے میرے کہنے پر ویڈیوز نہ بنائیں تو میں تمہاری تصاویر وائرل کر دوں گا جس پر میں مجبور ہو گئی میرے بوائے فرینڈ کا منصوبہ تھا کہ ان ویڈیوز کو دکھا کر ہسپتال مالک کو بلیک میل کریں گے اور لمبا مال بٹوریں گے، اندازہ کیجئے ایک عاشق یے جو محض مال حرام کی خاطر اپنی محبوبہ کو اکساتا ہے کہ عزت دار خواتین کی ویڈیوز بنا کر لاو۔ دوسری طرف ایک نرس یے جو اپنی عزت بچانے کی خاطر دوسروں کی عزت برباد کرنے کے لئے اپنے محبوب کی سہولت کار بن جاتی یے۔ دل تھام کے بیٹھیے ہماری بے حمیتی ، بے غیرتی کی یہ آخری کڑی نہیں۔ سوشل میڈیا پہ اکثر آپ ایک سیلفی دیکھتے ہیں

نام نہاد مسیحاوں کی سیلفی جن کے پس منظر میں کسی کی بہن ، کسی کی بیٹی کسی کی ماں آپریشن کے بعد بیہوشی کے عالم میں اسٹریچر پہ پردے سے بے نیاز پڑی یے جسے شاید صحت مندی کے عالم میں سورج کی کرنوں نے بھی دیکھا نہ ہو۔ کیا ہم انسان کہلانے کے لائق ہیں؟


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>