سب پیسے کی گیم ہے

PTI Allies

تحریک انصاف کے اتحادی ایک ایک کرکے وزیراعظم سے ناراض ہوگئے۔۔ پہلے ایم کیوایم ناراض ہوئی تو پھر سبھی اتحادی باجماعت ناراض ہوئے۔ پیر پگاڑا کی طرف سے جواب آگیا کہ ہم بھی حکومت سے ناراض ہیں ہمارے بھی تحفظات ہیں۔ ق لیگ نے جواب دیا کہ معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہم پرانی تنخواہ پر کام نہیں کرسکتے۔

اختر مینگل گروپ نے کہہ دیا کہ ہمیں نہ وزارتیں مل رہی ہیں نہ ترقیاتی فنڈز۔ ایم کیوایم کا رونا بھی ترقیاتی فنڈز اور وزارتوں کا ہے۔ ق لیگ کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ جب بھی حکومت پر مشکل وقت آتا ہے تو وہ بیان بازی شروع کردیتی ہے۔ کبھی کامل علی آغا، کبھی مونس الٰہی، کبھی انکے والد پرویز الٰہی تو کبھی طارق بشیرچیمہ

ق لیگ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کرتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے دوران چوہدری برادران کی بیان بازی سب کے سامنے ہیں جیسے انہوں نے بلیک میلنگ کی۔ بلیک میلنگ میں تحریک انصاف کے ایم این ایز بھی پیچھے نہیں ہیں، کبھی عامر لیاقت استعفیٰ کی دھمکی دیتے ہیں، کبھی نورعالم خان شکوہ کرتے نظر آتے ہیں، کبھی طالب نکئی حکومت کو نقصان دینے کی دھمکی دیتے ہیں۔۔

اگر آپ پچھلے کچھ دنوں میں ڈویلپمنٹ دیکھیں، اتحادیوں کے تحفظات دیکھیں تو ایک چیز مشترک نظر آتی ہے اور وہ ہے وزارتیں اور ترقیاتی فنڈز۔۔ ایم کیوایم کو امین الحق، فیصل سبزواری کیلئے ملازمتیں چاہئیں، ق لیگ کو مونس الٰہی کیلئے، پیرپگاڑا گروپ کو غوث بخش مہر کیلئے، بلوچستان عوامی پارٹی کو سرفراز بگٹی یا انوارالحق کاکڑ کیلئے جبکہ مینگل گروپ کو جہانزیب جمالدینی کیلئے وزارت چاہئے

سب کا مطمع نظر وزارتیں، ترقیاتی فنڈز اور ذاتی مفاد ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ کوئی اصولی سیاست نہیں بلکہ سب پیسے کی گیم ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>