فلور ملز مالکان میاں اسلم اقبال کے خلاف کیوں ہیں؟

Mian Aslam Iqbal

میاں اسلم اقبال کے خلاف پنجاب کے فلور ملز مالکان کیوں ہیں؟

گزشتہ روز مل مالکان کے ایک نمائندے نے میاں اسلم اقبال کو آٹا بحران کا ذمہ دار قرار دینے کی بھونڈی کوشش کی اور وجوہات یہ بتائی گئیں کہ "وہ 15 کلو آٹے کا تھیلا ختم کرنے اور میدہ کم بنانے کا کیوں کہ رہے ہیں”

آئیے ہم جاتے ہیں اس بات کی تہ میں کہ کیا 5 وجوہات ہیں جس کی وجہ سے میاں اسلم اقبال ان کی کمپین کا نشانہ بنے:

1) بطور وزیر تجارت میاں اسلم اقبال نے رمضان بازاروں میں سبسڈی کے نام پر چلنے والی لوٹ مار روکی۔ پہلے جو سبسڈی 9 ارب کی ہوتی تھی اس سال صرف 3 ارب کی رہی اور عوام کو بلا تکلیف آٹا ملتا رہا. اب اس 6 ارب کا جواب کون دے گا کہ وہ کہاں جاتا تھا آٹا؟

2) میاں اسلم اقبال نے ملرز کو کہا کہ حکومت سے ملنے والی پوری سستی گندم کا آٹا بنا کر مارکیٹ میں لائیں.. 1375 والی گندم باہر 2100 کی جیچ کر حکومت کو چونا نا لگائیں. اسی بات پر ملوں کی انسپکشن میں اب تک کئی ملوں کو بھاری جرمانے ہو چکے ہیں اور 86 کے تو لائسنس ہی کینسل ہو گئے۔ 542 کو 14 کروڑ روپے جرمانہ ہوا

3) میاں اسلم اقبال نے مطالبہ کیا کہ حکومت کے دئیے گئے فارمولے کے تحت گندم سے پراڈکٹس بنا کر مارکیٹ میں لائیں۔فارمولا یہ ہے کہ: 60٪ آٹا، 24٪ میدہ اور 16٪ چوکھر۔ کچھ ملیں صرف 20٪ آٹا بنا کر باقی 80٪ میدہ بنا کر افغانستان بھیج رہی تھیں. اب انسپکشن میں ان پر بھاری جرمانے اور سزائیں ہوئی ہیں۔

4) وزیر تجارت نے یہ بھی کہا کہ آٹے کے تھیلے پر لکھیں کہ اس میں moisture کتنا ہے۔ کیونکہ moisture زیادہ کر کے یہ عوام کو 2 سے 3 کلو کا چونا لگا رہے تھے.

5) ایک اور دونمبری 15 کلو کا تھیلا ہے جسے یہ عوام کو 20 کلو کا کہ کر بیچ دیتے ہیں. اور گالیاں حکومت کو پڑتی ہیں. میاں اسلم نے اس ہر پابندی کا مطالبہ کیا.

تو آپ خود فیصلہ کریں کہ دونمبریاں، دغابازیاں اور حرام خوری کرنے والے ٹھیک ہیں یا ان کو روکنے والامیاں اسلم اقبال

تحریر: کاشف رفیق


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>